کیوبا میں سرکاری اہلکاروں پر انڈوں کی چوری کا الزام

،تصویر کا ذریعہAFP
کیوبا میں استغاثہ کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ سرکاری کمپنیوں سے انڈوں کی چوری میں ملوث اہلکاروں کو کم از کم 20 سال قید کی سزا دی جائے۔
کیوبا کے سرکاری اخبارگرانما کے مطابق انڈوں کی چوری سے حکومت کو ساڑھے تین لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا۔
استغاثہ نے 19 اہلکاروں پر الزام عائد کیا کہ وہ جعلی گنتی کرنے، جعلی رسیدیں تیار کرنے اور انڈوں کی کالے بازار میں فروخت کے لیے ترسیل کے غیرقانونی راستوں کی اجازت دینے میں ملوث رہے۔
ملک کے صدر راؤل کاسترو نے سال 2009 میں بدعنوانی کے خلاف مہم شروع کی تھی۔
انھوں نے اس وقت کہا تھا کہ بدعنوانی کیمونسٹ ریاست کے لیے کینسر ہے۔
گرانما اخبار کے مطابق’جرائم پیشہ نیٹ ورک کامیاب ہوا کیونکہ بدعنوان سپروائزر تھے اور نگرانی کا نظام موجود نہیں تھا اور برداشت کا رویہ تھا۔‘
کیوبا کے حکام کے مطابق ملک میں یہ بدعنوانی جنوری اور اکتوبر 2012 میں ہوئی تھی۔
کیوبا کے حکام نے حراست میں لیے جانے والے اہلکاروں کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کرنے کی تاریخ کے بارے میں نہیں بتایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ماہ کیوبا نے ٹرانسپورٹ کمپنی کے صدر کو تین سال جیل میں قید کے بعد رہا کیا تھا۔ انھیں 2011 میں انسداد بدعنوانی کی مہم کے دوران رشوت دینے کے الزام میں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔







