امریکہ، کیوبا تعلقات ایک ’تہذیبی تبدیلی‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ اور کیوبا کے پانچ دہائیوں کی سرد مہری کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے کے فیصلے کا لاطینی امریکہ کے ممالک بہت عرصے سے انتظار کر رہے تھے اور جب سے یہ خبر سامنے آئی ہے اس پر ہی بحث جاری ہے۔
خطے کے سیاسی رہنما گزشتہ ہفتے کیے جانے والے اعلان کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈال رہے ہیں اور شاید اس سے بھی بڑھ کر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس سے کیوبا اور امریکہ بلکہ پورے خطے پر کیسے اثرات پڑیں گے۔
برازیل کی صدر ڈلما روزیف نے اسے سراہتے ہوئے اسے ایک ’تہذیبی تبدیلی‘ کہا ہے، جبکہ پیرو کے اولانٹا ہمالا نے کہا ہے کہ یہ ایک ’اہم، تاریخی اور بہادر‘ قدم ہے جس سے لاطینی امریکہ اکٹھا ہو جائے گا۔ میکسیکو کے اینریک پینا نیاٹو نے اسے ایک فیصلہ کن اقدام کہا۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ لاطینی امریکہ کے جو رہنما امریکہ پر تنقید کرتے رہتے ہیں انھوں نے بھی صدر اوباما کی تعریف کی ہے۔
بہت کم مواقعے ہی ہوں گے جب وینزیلا کے صدر نکولس مادورونے امریکہ میں اپنے ہم منصب کے متعلق کوئی مثبت الفاظ استعمال کیے ہوں۔ یہ ان موقعوں میں سے ایک تھا۔

،تصویر کا ذریعہg
انھوں نے اسے ایک بہادرانہ اور تاریخ کا ایک ضروری اقدام کہا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ’شاید مسٹر اوباما کا بطور صدر سب سے اہم قدم ہے۔‘
صدر مادورو کا بیان زیادہ حیران کن ہے کیونکہ یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس نے وینزویلا کے حکام پر سال کے آغاز میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں پابندیاں لگائیں ہیں۔
اس بل پر صدر اوباما نے کیوبا پر اعلان کے بعد دستخط کیے اور اب یہ ایک قانون بن گیا ہے۔ وینزویلا کے حکام نے اس پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیاسی میدان سے باہر سوشل میڈیا پر بھی امریکہ اور کیوبا تعلقات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر کی تقریر پندرہ منٹ جاری رہی اور اس میں انھوں نے دو ہزار الفاظ استعمال کیے جن میں سے پانچ ہسپانوی زبان میں سے تھے۔ اور یہی تھے جو پورے لاطینی امریکہ میں گونجتے رہے۔
انھوں نے ہسپانوی زبان میں کہا ’ہم سب امریکی ہیں‘ اور ’یہ آسان نہیں۔‘
سیاسی مبصرین نے 17 دسمبر کی تقریر کو نئے دور کے آغاز کا ایک ’ناقابلِ فراموش‘ دن کہا ہے۔
کولمبیا کے صحافی ہوان کارلوس نے اسے دیوارِ برلن کے گرنے سے تعبیر کیا۔
ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے کیتھولک فرقے کے مذہبی رہنما پوپ فرانسس کی بھی خصوصی تعریف کی گئی ہے کیونکہ انھوں نے مذاکرات منعقد کرانے میں مدد کی تھی۔
ایکواڈور کے صدر رافیل کوریا نے اسے پوپ کا ایک اور مذہبی کرشمہ کہا ہے۔







