50 سال بعد امریکہ اور کیوبا کے تعلقات کی بحالی

صدر اوباما نے امریکہ کی کیوبا کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کو تعلقات کا نیا باب قرار دیا جبکہ کیوبن صدر راؤل کسترو نے اس کا خیر مقدم کیا

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے امریکہ کی کیوبا کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کو تعلقات کا نیا باب قرار دیا جبکہ کیوبن صدر راؤل کسترو نے اس کا خیر مقدم کیا

امریکی صدر براک اوباما نے کیوبا کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات کو معمول پر لانے کا اعلان کرتے ہوئے اسے ان تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا باب قرار دیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ کی موجودہ پالیسی ’متروک‘ ہو چکی تھی اور گذشتہ 50 سال کی تاریخ کی نسبت حالیہ تبدیلیاں ’بہت نمایاں‘ ہیں۔

کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے ٹی وی پر خطاب میں اس اعلان کا خیر مقدم کیا۔

اس اعلان کے بعد ایک کیوبا میں قید امریکی ٹھیکے دار الین گروس اور امریکہ میں قید تین کیوبن شہریوں کی رہائی کا اعلان کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز اس اعلان کے پیچھ ایک سال پر محیط خفیہ سفارت کاری ہے جو کینیڈا اور ویٹیکن میں براہِ راست پوپ کے ساتھ ہوئی۔

صدر اوباما نے بتایا کہ امریکہ آنے والے مہینوں میں کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں سفارتخانہ کھولنے کا سوچ رہا ہے۔

امریکی صدر اوباما نے صدر راؤل کاسترو سے جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات کے موقع پر مصاحفہ کیا تھا
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر اوباما نے صدر راؤل کاسترو سے جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات کے موقع پر مصاحفہ کیا تھا

صدر راؤل کاسترو نے کہا کہ یہ وہ تبدیلیاں ہیں جن کے بارے میں کیوبا کافی عرصے سے زور دے رہا ہے۔

میرے انتخاب کے بعد میں نے کیی مواقع پر امریکہ کی حکومت کے ساتھ باعزت طریقے سے بات چیت کرنے کا کہا ہے جن کی بنیاد سالمیت کے مساوی اصولوں پر ہو۔‘

صدر کاسترو نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کیوا کے خلاف تجارتی اور معاشی پابندیاں اٹھائےجو صرف کانگریس کر سکتی ہے۔

امریکی ٹھیکے دار الین گراس مین ایک امریکی حکومت کے طیارے سے کیوبا سے واپس امریکہ پہنچے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکی ٹھیکے دار الین گراس مین ایک امریکی حکومت کے طیارے سے کیوبا سے واپس امریکہ پہنچے

رپبلکن سینیٹر مارکو روبیو نے امریکہ اس نئی امریکی پالیسی پر تنقید کی اور کہا کہ یہ کیوبا کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور سیاسی نظام کی تبدیلی کے حوالے سے کچھ نہیں کرے گی۔

یاد رہے کہ 2011 میں امریکی صدر براک اوباما نے امریکی شہریوں کے کیوبا جانے پر عائد پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ انھوں نےمتعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مذہبی گروپوں اور طالبعلموں کو کیوبا جانے کی اجازت دیں۔