’کیوبا کے کمیونسٹ نظام میں تبدیلی نہیں آئے گی‘

صدر کاسترو نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کیوبا کے خلاف تجارتی اور معاشی پابندیاں اٹھائے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر کاسترو نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کیوبا کے خلاف تجارتی اور معاشی پابندیاں اٹھائے

کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے امریکہ کی جانب سے دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کےحالیہ اقدام کی تعریف کرتے ہوئے عزم کیا ہے کہ اپنے ملک کے سیاسی نظام کو تبدیل نہیں کریں گے۔

صدر راؤل کا کہنا ہے کہ یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ امریکی اقتصادی پابندیاں اٹھنے سے پہلے کیوبا کو ایک طویل اور مشکل جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز صدر براک اوباما نے کیوبا کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات کو معمول پر لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان نئے باب کے آغاز ہے۔

امریکہ اور کیوبا کے تعلقات 1960 کی دھائی سے سرد مہری کا شکار ہیں جب کیوبا کے انقلاب کے بعد امریکہ نےسفارتی تعلقات توڑ کر کیوبا پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں تھیں۔

ہوانا میں قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے صدر کاسترو کا کہنا تھا کہ اوباما کی طرف سے اس ہفتے کے اعلان کے بعد دو طرفہ تعلقات میں حائل رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں۔

صدر راؤل کاسترو نے کہا کہ یہ وہ تبدیلیاں ہیں جن کے بارے میں کیوبا کافی عرصے سے زور دے رہا ہے۔

میرے انتخاب کے بعد میں نے کئی مواقعوں پر امریکہ کی حکومت کے ساتھ باعزت طریقے سے بات چیت کرنے کا کہا ہے جن کی بنیاد سالمیت کے مساوی اصولوں پر ہو۔

صدر کاسترو نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کیوبا کے خلاف تجارتی اور معاشی پابندیاں اٹھائےجو صرف کانگریس کر سکتی ہے۔

صدر اوباما نے بتایا کہ امریکہ آنے والے مہینوں میں کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں سفارتخانہ کھولنے کا سوچ رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے بتایا کہ امریکہ آنے والے مہینوں میں کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں سفارتخانہ کھولنے کا سوچ رہا ہے

بدھ کے روز اس اعلان کے پیچھے ایک سال پر محیط خفیہ سفارت کاری ہے جو کینیڈا اور ویٹیکن میں براہِ راست پوپ کے ساتھ ہوئی۔

صدر اوباما نے بتایا کہ امریکہ آنے والے مہینوں میں کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں سفارتخانہ کھولنے کا سوچ رہا ہے۔

رپبلکن سینیٹر مارکو روبیو نے امریکہ اس نئی امریکی پالیسی پر تنقید کی اور کہا کہ یہ کیوبا کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور سیاسی نظام کی تبدیلی کے حوالے سے کچھ نہیں کرے گی۔

یاد رہے کہ 2011 میں امریکی صدر براک اوباما نے امریکی شہریوں کے کیوبا جانے پر عائد پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ انھوں نےمتعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مذہبی گروپوں اور طالب علموں کو کیوبا جانے کی اجازت دیں۔