امریکہ اور کیوبا کے 116 سال کے تعلقات کی کہانی تصاویر میں
،تصویر کا کیپشنسنہ 1897 میں جب کیوبا اس وقت کی بڑی نوآبادیاتی طاقت سپین کے خلاف جنگِ آزادی لڑتا ہے، اس وقت ’مین‘ نامی امریکی بحری بیڑا ہوانا کے ساحل سے آن لگتا ہے۔ سنہ 1898 میں ’مین‘ کے کیوبا کے سمندر میں غرق ہونے سے امریکہ اور سپین کے درمیان جنگ کا آغاز ہو جاتا ہے جس بعد کیوبا پر امریکی تسلط قائم ہو جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 1902 میں کیوبا امریکہ سے آزادی تو حاصل کر لیتا ہے لیکن امریکہ کے پاس یہ حق رہتا ہے کہ وہ سنہ 1934 تک کیوبا کے معاملات میں جب چاہے دخل اندازی کر سکتا ہے۔ سنہ 1935 کی اس تصویر میں کیوبا کی پولیس حکومتِ وقت کے خلاف سرگرمیوں کے شبہے میں ایک شحض کو گرفتار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 1940 میں ہوانا کے ایک کلب میں ’رُمبا‘ ڈانس کرتی ہوئی ایک رقاصہ حاضرین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہ وہ ماہ و سال تھے جب امریکی سیاح اور سرمایہ کار ہوانا کی بے فکر راتوں سے نہ صرف لطف اندوز ہو رہے تھے بلکہ خوب پیسہ بھی بنا رہے تھے۔ سنہ1952 میں باتستا ریٹائرمنٹ کے بعد ایک مرتبہ پھر منظر عام پر آ جاتے ہیں اور امریکہ کی پشت پناہی کے ساتھ اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنلوگوں کی اکثریت باتستا کی آمرانہ حکومت سے ناخوش ہے۔ یہاں صدر کو جوان باغی فیدل کاسترو کی قیادت میں جاری ایک مزاحمتی تحریک کے دوران پکڑے جانے والے اسلحے کا معائنہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مزاحمت صدر کا تختہ الٹنے میں ناکام رہتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنارجنٹائن کے انقلابی ارنیستو ’چےگویرا‘ کے ساتھ مل کر فیدل کاسٹرو صدر باتستا کے خلاف ایک گوریلا جنگ کا آغاز کردیتے ہیں۔ پہاڑوں کے درمیان واقع باغیوں کے ایک بڑے ٹھکانے پر گویرا بیس بال بھی کھیلتے ہیں۔ بیس بال اب تک امریکہ اور کیوبا کے مقبول کھیلوں میں سے ایک ہے۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 1959 میں فیدل کاسترو کے باغی اقتدار پر قبضہ کر لیتے ہیں اور صدر باتستا کو فرار ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اسی سال مسٹر کاسترو امریکہ کا غیر سرکاری دورہ کرتے ہیں جہاں واشنگٹن میں وہ امریکی نائب صدر رچرڈ نکسن سے بھی ملاقات کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبعد میں ان ملاقاتوں کا احوال لکھتے ہوئے نکسن کہتے ہیں کہ امریکہ کوشش کر رہا تھا کہ مسٹر کاسترو کو ’صحیح سمت‘ میں رکھا جائے۔ میامی کی بندرگاہ پر لگے ہوئے اس بورڈ پر لکھے پیغام کا مقصد بھی یہی ہے کہ امریکہ ہوانا میں قائم ہونے والی نئی حکومت کے بارے میں اپنے دل میں شکوک نہ لائے۔
،تصویر کا کیپشنلیکن سنہ 1960 میں مسٹر کاسترو کیوبا میں بڑے بڑے امریکی کاروباروں کو بغیر کسی معاوضے کے قومی تحویل میں لے لیتے ہیں۔ امریکہ سفارتی تعلقات منقطع کر دیتا ہے۔ سنہ 1961 میں ’بے آف پِگز‘ کی بندرگاہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے جو ناکام رہتی ہے۔ حملہ آوروں کے خلاف کارروائیوں کی قیادت خود مسٹر کاسترو کرتے ہیں جنھیں یہاں ایک ٹینک سے چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنامریکہ کی پشت پناہی میں ’بے آف پِگز‘ پر چڑھائی کرنے والے کیوبا کے شہریوں کو پکڑ لیا جاتا ہے۔ مسٹر کاسترو کیوبا کو ایک اشتراکی ریاست بنانے کا اعلان کر کے سوویت یونین کے اتحادیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 1962 میں کیوبا سوویت یونین کے ساتھ اپنے جزیرے پر سوویت میزائل لگانے پر رضامند ہو جاتا ہے۔ یہ خبر سن کر امریکہ میں خطرے کی گھنٹی بجنا شروع ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں ’کیوبا میزائل تنازع‘ جنم لیتا ہے جس کے بارے میں اکثریت کہتی ہے کہ یہ سرد جنگ کے دور کا خطرناک ترین لمحہ تھا۔ سنہ 1962 کی اس تصویر میں ایک امریکی گشتی طیارے کو دیکھا جا سکتا ہے جو ایک سوویت بحری جہاز کی حرکات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
،تصویر کا کیپشنبالآخر میزائل تنازعے کا ایک پرامن حل نکل آتا ہے۔ مسٹر کاسترو سوویت یونین کے ساتھ کیوبا کے تعلقات کو فروغ دیتے رہتے ہیں اور اس دوران سنہ 1963 میں ماسکو جاتے ہیں جہاں ان کے میزبانی مشہور سوویت رہنما نکیتا خروشیف کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ کیوبا کے خلاف تجارتی پابندیاں سخت کر دیتا ہے۔ اس دوران جزیرے سے تارکین وطن خطرناک سمندری سفر کے باوجود امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحلوں پر اترتے رہتے ہیں۔ یہاں ہوانا کے قریب ایک ساحل پر ایک ماں اپنی بیٹی کو الوداع کر رہی ہے۔ سن1994 میں امریکہ کیوبا کے ساتھ ایک معاہدہ کرتا ہے جس کا مقصد کیوبا سے امریکہ آنے والے تارکین وطن کی تعداد کو ایک حد کے اندر رکھنا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 1999 میں امریکہ میں موجود کیوبا کے تارکین وطن ایک بڑی مہم چلاتے ہیں۔ مہم کا مقصد ایلین گونزالیس نامی ایک لڑکے کو امریکہ میں رہنے کا حق دلوانا ہوتا ہے جسے امریکی حکام فلوریڈا کے ساحل کے قریب سمندر میں ڈوبنے سے بچاتے ہیں۔یہ لڑکا امریکہ اور کیوبا کے درمیان قدیم تناؤ کی ایک علامت بن جاتا ہے۔ آخر کار لڑکے کو اپنے والد کے پاس واپس ہوانا بھیج دیا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنامریکہ اور کیوبا کے درمیان تعلقات ایک مرتبہ پھر سنہ 2002 میں مزید خراب ہو جاتے ہیں جب امریکی حکام الزام لگاتے ہیں کہ کیوبا بائیو لوجیکل ہتھیار بنا رہا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں میں تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں اور سنہ2002 میں سابق صدر جمی کارٹر اپنے میزبان مسٹر کاسترو کے ساتھ ایک بیس بال سٹیڈیم بھی جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 2008 میں دونوں ممالک کے ہاں نئے رہنما اقتدار سنبھالتے ہیں۔ فیدل کاسترو کی جگہ ان کے بھائی راؤل کاسترو لیتے ہیں اور جارج بش کی جگہ براک اوباما صدر بن جاتے ہیں۔ اگرچہ پس منظر میں سفارتی سرگرمیوں جاری رہتی ہیں، لیکن سنہ 2013 میں نیلسن مینڈیلا کی آخری رسومات کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں کو مصافحہ کرتے دیکھ کر دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 2014 میں دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوتا ہے جس کے بعد یہ اعلان ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کریں گے۔ سنہ 2014 میں جزیرے کے سوویت یونین اور امریکہ، دونوں کے ساتھ طویل تاریخی تعلق کی ایک مثال اس وقت دیکھی جا سکتی تھی جب ایک عہد رفتہ کی مشہور امریکی کار سوویت دور کے ایک بحری جنگی جہاز کے پاس سے گزر رہی تھی۔