’پِکاسو کے چوری شدہ شاہکار واپس کرو‘

،تصویر کا ذریعہReuters
فرانس کی ایک عدالت نے ایک معمر الیکٹریشن کو پابلو پِکاسو کے 200 سے زائد چوری شدہ شاہکار لوٹانے کا حکم جاری کیا ہے۔
75 سالہ پئیر لی گونیک اور ان کی اہلیہ ڈینیئل کو ان شاہکاروں کو تقریباً 40 برس تک اپنے گھر میں چھپائے رکھنے پر دو سال کی سزا بھی سنائی گئی ہے، جسے معطّل کر دیا گیا ہے۔
پئیر لی گونیک کا دعویٰ ہے کہ پِکاسو نے سنہ 1973 میں اپنی وفات سے پہلے شاہکاروں کا یہ خزینہ انھیں سونپ دیا تھا۔
آرٹ کے یہ شاہکار اب ’پِکاسو ایڈمنسٹریشن‘ کو واپس کر دیے جائیں گے۔
ان شاہکاروں کی قیمت کا اندازہ ابھی نہیں لگایا گیا تاہم سنہ 1942 میں بنائی گئی پِکاسو کی محبوبہ ڈورا مار کی ایک پورٹریٹ گذشتہ برس مئی کے مہینے میں 22.6 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔
ان چوری شدہ شاہکاروں میں سنہ 1900 اورسنہ 1932 کے دوران تخلیق کیے گئے کئی ’لِتھوگراف‘، پورٹریٹ، واٹر کلر اور سکیچ شامل ہیں۔
سماعت کے دوران پئیر لی گونیک نے عدالت کو بتایا کہ ’پِکاسو کو مجھ پر مکمل اعتماد تھا۔ شاید یہ میری صواب دید تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پِکاسو کی اہلیہ جیکلین نے ایک ڈبے میں آرٹ کے 271 نمونے دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ تمھارے لیے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ شاہکار ان کے گیراج میں سنہ 2000 تک پڑے رہے جس کے بعد وہ ان کی تصدیق کرانے کے لیے انھیں پیرس لے گئے۔ تاہم اس موقعے پر ان کے ورثا نے ان کی شکایت کر دی۔
استغاثہ نے پئیر لی گونیک اور ان کی اہلیے کے لیے پانچ سال کی معطّل سزا کا مطالبہ کیا تھا۔







