جرمن فوجیوں کی نایاب تصاویر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کے فوجی کی جانب سے لی گئی تصاویر کی نمائش نیدرلینڈز میں کی جا رہی ہے۔ جرمن فوجی کا یہ کیمرہ برطانوی فوجی کو ملا تھا۔
رائل میرین کے آرتھر تھامسن کو یہ کیمرہ یکم نومبر 1944 کو نیدرلینڈز سے جرمن فوج کو نکالنے کے آپریشن کے دوران ملا تھا۔ یہ کیمرہ ایک بڑی بنکر میں جرمن فوج کے سامان کے ساتھ پڑا ملا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس کیمرے میں سے صرف جرمن فوجیوں کی آرام کرتے ہوئے کی تصاویر ہی نہیں ملیں بلکہ برطانوی کمانڈوز کی تصاویر بھی ملیں ہیں جو تھامسن نےکھینچی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
آرتھر تھامسن کا انتقال89 سال کی عمر میں 2013 میں ہوا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ کیمرہ اور تصاویر نیدرلینڈز کو دے دی جائیں جہاں سے ان کو یہ کیمرہ ملا تھا۔
جس بنکر سے تھامسن کو یہ کیمرہ ملا تھا وہ بنکر ہٹلر کے دفاعی نظام ’ایٹلانٹک وال‘ کا حصہ تھا۔ یہ دفاعی نظام اتحادیوں کے حملے کو روکنے کے لیے سپین سے سکینڈینیویا تک پھیلا ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
تھامسن دوسری جنگ عظیم کے وقت 21 سال کے تھے اور وہ 47 رائل میرین کا حصہ تھے۔
انتقال سے قبل ان کا کہنا تھا ’ہم بنکر میں تلاشی لے رہے تھے اور میں نے یہ کیمرہ اٹھا لیا۔ اس میں فلم تھی۔ جرمن فوجیوں نے اتنی زیادہ تصاویر لی ہوئی تھیں اور چند ہی تصاویر بچی تھیں۔ تو میں نے بھی چند تصاویر کھینچیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
’میں جب جنگ سے واپس آیا تو تصاویر نکلوائیں اور ان میں جرمن فوجیوں کی تصاویر اور چند تصاویر ہو جو میں نے کھینچی تھیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یاد رہے کہ 47 رائل میرین اگست 1943 میں قائم کی گئی تھی اور اس نے نارمنڈی لینڈنگ میں بھی حصہ لیا۔
تھامسن کی بیٹی کلیئر ہنٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جب سے ہوش سنبھالا یہ کیمرہ ان کی زندگی کا حصہ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد اسی کیمرے سے تصاویر کھینچا کرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس کیمرے کے ملنے کے 70 سال بعد تھامسن کی بیٹی نے یہ کیمرہ نیدرلینڈز کے عجائب گھر کو پیش کیا ہے۔







