’جرمنی کے ایئرسیفٹی ضابطہ کار پر پہلے سے تشویش تھی‘

دو ہفتے قبل فرانس کے پہاڑوں میں تباہ ہونے والا جرمن ونگز کے طیارے نے جرمنی کے متعلق سیفٹی اصولوں کی پابندی پر سوال اٹھائے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندو ہفتے قبل فرانس کے پہاڑوں میں تباہ ہونے والا جرمن ونگز کے طیارے نے جرمنی کے متعلق سیفٹی اصولوں کی پابندی پر سوال اٹھائے ہیں

فرانس کے پہاڑوں میں جرمن ونگز طیارے کی تباہی کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ یورپی ہوا بازی کی سیفٹی ایجنسی کو جرمنی میں ایئر سیفٹی کے ضابطہ کاروں کے متعلق بہت پہلے سے تشویش رہی ہے۔

یورپیئن ایویئیشن سیفٹی ایجنسی (یو اے ایس اے) کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایجنسی کی جانب سے کئی بار جرمنی میں ہوا بازی کے ضابطہ کاروں کو ایئر سیفٹی اصولوں کی پابندی نہ کرنے پر وارننگ جاری کی گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق یو اے ایس اے نے جرمنی کے ہوا بازی کے محکمے (لتفہربندیسامٹ) سے نومبر میں کہا تھا کہ وہ اپنے یہاں کے مسائل کو درست کرے جن میں سٹاف کی کمی کو پوار کرنا بھی شامل تھا کیونکہ ان کی وجہ سے طیاروں کی جانچ اور طیارے کے عملے کی جانچ کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ دو ہفتے قبل ہی جرمن ونگز ایئرلائنر کے ایک معاون پائلٹ آندریاز لوبٹز نے اپنے جہاز کو دانستہ طور پر پہاڑوں میں لے جا کر تباہ کر دیا تھا۔

فرانس نے تلاش کا کام ختم کردیا ہے لیکن لاشوں کی شناخت کا کام جاری رہے گا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنفرانس نے تلاش کا کام ختم کردیا ہے لیکن لاشوں کی شناخت کا کام جاری رہے گا

جرمن ونگز کی اصل کمپنی لفتھانسا ایئرلائنز نے کہا ہے کہ لوبٹز نے اپنی ٹریننگ کے دوران سنہ 2009 میں یہ بتایا تھا کہ وہ ڈپریشن میں ہیں۔

اس حادثے میں طیارے پر سوار تمام 150 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دریں اثنا فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس حادثے میں لاشوں کی باقیات کی تلاش کا کام ختم کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق اب لاشوں کی شناخت کا کام جائے حادثہ پر ملنے والے ڈی این اے اور ان کے تجزیے کے ذریعے کیا جائے گا۔