لفتھانزا نے ممکنہ اخراجات کے لیے 30 کروڑ ڈالر مختص کر دیے

،تصویر کا ذریعہAP
جرمنی کی ہوائی کمپنی لفتھانزا نے جرمن ونگز جہاز کے حالیہ حادثے کے بعد ممکنہ اخراجات کے لیے 30 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں۔
جرمن ونگز کی مالک کمپنی لفتھانزا کا کہنا ہے کہ ’یہ پیسہ مقدمے کے تمام اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہو گا۔‘
دریں اثنا فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ ہفتے کے آخر تک 150 افراد کی شناخت ہو جائے گی۔
حادثے کے مقام پر جلد رسائی کے لیے ایک عارضی سڑک بنائی گئی ہے لیکن امدادی کاموں میں مصروف اداروں کا کہنا ہے کہ آپریشن مکمل ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے صدر اولاند نے امدادی کارکنوں کے کام کو سراہا ہے۔
فرانسیسی وزیرِداخلہ کا کہنا ہے کہ اس ہفتے کے اختتام سے پہلے ڈی این اے کی مدد سے لاشوں کی شناخت کر لی جائے گی۔
خیال رہے کہ جائے حادثہ سے ملنے والی لاشیں ناقابلِ شناخت تھیں۔
جرمن حکام کا کہنا ہے کہ لفتھانزا کی جانب سے مختص کی گئی 30 کروڑ ڈالر کی رقم 50 ہزار ڈالر کی اس رقم کے علاوہ ہے جو ابتدائی اخراجات کے لیے مسافروں کے رشتے داروں کے لیے دستیاب ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حادثے کی صورت میں ہوائی کمپنیاں نقصان کی تلافی کے لیے ہلاک ہونے والے مسافروں کے رشتہ داروں کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر تک کی رقم دینے کی پابند ہیں لیکن اگر حادثے کی ذمہ داری ہوائی کمپنی پر ثابت ہو جائے تو اس رقم میں خاصا اضافہ ہو سکتا ہے۔
پیر کے روز یہ بات سامنے آئی تھی کہ معاون پائلٹ آندریاز لوبٹز میں بہت پہلے سے خودکشی کرنے کے رجحانات موجود تھے اور وہ اس کا علاج بھی کروا چکے تھے۔
لوبٹز کو جرمن مسافر طیارے کو مبینہ طور پر جان بوجھ کر تباہ کرنے اور 150 مسافروں کو ہلاک کرنے کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔
اگر تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ معاون پائلٹ نے جان بوجھ کر طیارے کو گرایا تھا تو ہوائی کمپنی کو مسافروں کے رشتہ داروں کو نقصان کی تلافی کے طور پر ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے کہیں زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی۔







