بوسٹن دھماکوں کے مقدمے کی سماعت کا آغاز

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ میں دو سال قبل بوسٹن میراتھن کی اختتامی لائن کے قریب بم نصب کرنے کے ملزم کے مقدمے کی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔
21 سالہ جوہر سارنیف نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال کے الزام سے انکار کیا ہے۔
اس بم دھماکے میں ایک آٹھ سالہ بچے سمیت تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دھماکے کے لیے استعمال ہونے والے بم میں دو پریشر ککروں میں کیل، بال بیرنگ اور دیگر تیز دھار آلات کا استعمال کیا گیا تھا۔
9/11 کے حملوں کے بعد امریکہ میں کیا جانے والا یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔ ان دھماکوں میں 260 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے خاصی تعداد کے ہاتھ اور پاؤں سے محروم ہوگئے تھے۔
جوہر سارنیف پر بم دھماکے کے کچھ دنوں بعد ایک پولیس اہلکار کو قتل کرنے کا الزام بھی ہے۔
دھماکے کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر مجروں کی تلاش شروع کی اور اس کا انجام جوہر سارنیف کی گرفتاری اور ان کے بڑے بھائی تیمرلان کی موت پر ہوا، جن پر ان دھماکوں میں ملوث ہونے کا شبہہ بھی تھا۔
اس مقدمے کی سماعت کے لیے ججوں کے انتخاب کے لیے دو ماہ سے زیادہ کا وقت لگا۔

،تصویر کا ذریعہAP
جیوری کے لیے 1300 لوگوں پر غور کیا گیا اور ان میں سے بیشتر کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا گیا کہ وہ پہلے ہی سے جوہر سارنیف کے جرم کے بارے میں اپنی رائے رکھتے ہیں یا ان کے جرم ثابت ہونے پر وہ انہیں سزائے موت دینے کی حمایت میں ووٹ دینے کی خواہش نہیں رکھتے، جس کے لیے استغاثہ سرگرم ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جوہر سارنیف کے وکلا نے بارہا کوشش کی ہے کہ اس مقدمے کی سماعت کسی دوسرے شہر منتقل کر دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بوسٹن میں اس مقدمے کی منصفانہ سماعت ہونا ناممکن ہوگا۔
ان کے بارے میں توقع ہے کہ وہ یہ دلیل پیش کریں کہ ان کا بڑا بھائی ان بم دھماکوں کے پیچھے اصل فرد تھے۔
تاہم استغاثہ کی جانب سے یہ دلیل پیش کی جائے گی کہ چیچن نژاد دونوں بھائیوں نے مسلمان ممالک کے خلاف امریکی فوج کی کارروائیوں کے بدلے میں بم دھماکے کیے۔







