جوہر سارنائیف نے چلنا شروع کر دیا

بوسٹن میں بم دھماکوں کے ملزم جوہر سارنائیف کی ماں نے کہا ہے کہ اس نے چلنا شروع کر دیا ہے۔
خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے جوہر کی ماں زبیدہ سارنیوا نے کہا کہ ان کے بیٹے نے انھیں فون کر کے بتایا ہے کہ وہ اور ان کا ہلاک شدہ بھائی معصوم ہیں۔
سارنائیف پولیس مقابلے میں زخمی ہو گئے تھے۔ اس وقت وہ جیل کے ہسپتال میں قید ہیں۔
گذشتہ ماہ ہونے والے بم دھماکوں میں تین افراد مارے گئے تھے جب کہ 260 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
سارنیوا نے اے پی کو بتایا کہ انھوں نے اپنے 19 سالہ بیٹے کے ساتھ گرفتاری کے بعد پہلی بار بات کی ہے۔
جوہر نے انھیں بتایا کہ وہ بہتر ہو رہے ہیں، لیکن انھیں یہ سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔
جوہر کی ماں نے کہا، ’اس نے اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھا، جیسے وہ ساری دنیا سے چیخ چیخ کر پوچھ رہا ہو، یہ سب کیا ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے؟
میں محسوس کر سکتی ہوں کہ اسے ہمارے ساتھ ہونے والی یہ ناانصافی پاگل پن کی طرف دھکیل رہی ہے، اور انھوں نے ہمارے بے گناہ تیمرلان کو قتل کر ڈالا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سارنائیف خاندان کا مسلسل دعویٰ ہے کہ دونوں بھائی بم دھماکوں میں ملوث نہیں تھے، جن میں 15 اپریل کو بوسٹن میں ہونے والی میراتھن دوڑ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
سارنائیف خاندان کا تعلق روسی ریاست چیچنیا سے ہے۔ انھوں نے اے پی سے داغستان کے ایک اپارٹمنٹ سے بات کی۔
ملزم کے والد انزور سارنائیف نے کہا کہ انھوں نے یہ اپارٹمنٹ اس لیے خریدا تھا کہ تیمرلان اور اس کی فیملی داغستان کے دارالحکومت ماخاچکالا آ سکیں۔
انھوں نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’میں صرف خدا سے دعا کر سکتا ہوں اور یہ امید رکھ سکتا ہوں کہ ایک دن انصاف کی جیت ہو، اور ہمارے بچوں سے یہ الزام ہٹ جائے اور جوہر ہمیں واپس مل جائے، جو اگرچہ معذور ہو چکا ہے لیکن کم از کم زندہ تو ہے۔‘







