بوسٹن بم دھماکے: جوہر کے تین دوست عدالت میں پیش

جوہر کے کالج کے تینوں دوستوں کو پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنجوہر کے کالج کے تینوں دوستوں کو پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے

امریکہ میں بوسٹن میراتھن بم دھماکوں کے ملزم جوہر سارنائیف کے کالج کے تین دوست ان حملوں کی تحقیقات کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ قازقستان سے تعلق رکھنے والے عظمت آژیاکوف اور دیاز قادربایف نے جوہر سارنائیف کا لیپ ٹاپ اور بیگ پھینک دیا تھا۔ جس کی وجہ سے ان پر ان حملوں کے ثبوت ضائع کرنے کا الزام ہے۔ جبکہ امریکی شہری روبل فیلیپوس پر تفتیش کاروں کو جھوٹ بولنے کا الزام ہے۔

ان میں سے کسی پر بھی ان حملوں کی منصوبہ بندی میں حصہ لینے کا الزام نہیں۔

یہ تینوں افراد بدھ کو بوسٹن کے وفاقی عدالت میں پیش ہوئے۔

ان افراد کو پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے کیونکہ استغاثہ کے وکیل نے دلائل دیے کہ ان کے بھاگ جانے کا خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ پندرہ اپریل کو ہونے والے بوسٹن میراتھن دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور 260 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

جرم ثابت ہونے کی صورت میں عظمت آژیاکوف اور دیاز قادربایف کو زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور دو لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ روبل فیلیپوس کو آٹھ سال قید اور اسی قسم کے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

عظمت آژیاکوف اور دیاز قادربایف کی طرف سے حلفیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ان حملوں کے تین دن بعد میسی چیوٹ یونیورسٹی میں جوہر کے رہائشی کمرے سے سامان ہٹایا تھا۔

جب ٹی وی پر بم حملوں میں ملوث مشتبہ افراد کی تصاویر دکھائیں گئیں تودیاز قادربایف نے مبینہ طور پر جوہر کو ایس ایم ایس پیغام میں کہا کہ ان کی شکل حملوں میں مبینہ طور پر ملوث مشکوک شخص سے ملتی ہے۔ جس پر جوہر نے جواب دیا تھا تھا ’لول، بہتر ہے کہ آپ مجھے آئندہ ایس ایم ایس نہ کریں۔‘

جارج شیٹ کے مطابق جوہر نے دیاز قادربایف کو یہ بھی کہا کہ’میں جانے والا ہوں اگر آپ کو میرے کمرے سے کسی چیز کی ضرورت ہو تو لے لیں۔‘

ادھر دیاز قادربایف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کو فوری طور پر یہ خیال نہیں آیا کہ جوہر ہی مشتبہ شخص تھا، ایف بی آئی کی جاری کردہ مشتبہ شخص کی تصاویر جوہر ہی کی تھیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ بیگ ان حملوں کا ثبوت تھا۔

تاہم ایف بی آئی نے کہا کہ دیاز قادربایف نے جب بیگ میں آتش بازی کا کھلا سامان دیکھا تو ان کو معلوم تھا کہ جوہر ان بم حملوں میں ملوث تھا۔

حلفیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دیاز قادربایف نے حکام کو بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی نے جوہر کا بیگ اور آتش بازی کا سامان ردی میں پھینکنے کا فیصلہ مل کر کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ جوہر کسی مصیبت کا شکار ہوں۔‘

تفتیش کاروں نے کہا کہ انہوں نے بعد میں جوہر کا بیگ ڈھونڈ نکالا تھا تاہم عدالتی کاغذات میں لیپ ٹاپ کا ذکر نہیں ہے۔

حلفیہ بیان میں عظمت آژیاکوف نے کہا کہ جوہر نے ان حملوں سے ایک مہینے پہلے ان کو بتایا تھا کہ انہیں بم بنانا آتا ہے۔

جوہر سارنائیف اب ہسپتال میں پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان پر بڑی تباہی پھیلانے والا ہتھیار استعمال کرکے لوگوں کو قتل کرنے کا فردِ جرم عائد کیا گیا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر انہیں سزائے موت ہو سکتی ہے۔