بوسٹن بم دھماکے: ایف بی آئی پر تنقید

امریکی سکیورٹی حکام کو سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی جانب سے اس معاملے پر سوالات کا سامنا ہے کہ ایف بی آئی جوہر کے 26 سالہ بھائی تیمرلان کے خلاف خفیہ معلومات سے بدانتظامی سے پیش آئی تھی۔
تیمرلان سے 2011 میں روسی حکومت کی درخواست پر تفتیش کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ شدت پسند اسلام اختیار کر چکے ہیں۔ تاہم بظاہر ان کے خلاف ایف بی آئی نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
کانگریس کے کچھ ارکان نے اس معاملے میں ایف بی آئی پر تنقید کی تھی، جس کے بعد سکیورٹی حکام سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کو بند کمرے میں بریفنگ دیں گے۔
تیمرلان گذشتہ جمعے کو پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے جب کہ ان کے زخمی بھائی پر فردِجرم عائد کر دی گئی ہے۔
کانگریس کے ارکان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ تیمرلان کے خلاف مزید کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔ ڈیموکریٹ سینٹر ڈائین فائن سٹائن سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سربراہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی ایف بی آئی کے ساتھ منگل کو ملاقات کے دوران اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
توقع ہے کہ پورے سینٹ کو اس ہفتے کے آخر میں بریفنگ دی جائے گی۔
ایف بی آئی نے اپنا دفاع کرتے ہوئے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے تیمرلان کے بارے میں تفتیش کی تھی لیکن کسی دہشت گردانہ سرگرمی کا سراغ نہیں ملا۔
امریکی حکام نے روس کو مزید معلومات کی درخواست کی تھی لیکن اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ تیمرلان اور ان کے خاندان کے افراد سے پوچھ گچھ سے بھی کوئی مشتبہ بات سامنے نہیں آئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم رپبلکن سینٹر لنڈسی گراہم نے سوال اٹھایا کہ ایف بی آئی نے شدت پسند ویب سائٹوں سے تیمرلان کے مبینہ تعلق پر اسے بطورِ خطرہ شناخت کیوں نہیں کیا۔
انھوں نے روس کے ساتھ بہتر تعاون اور لوگوں کی نجی معلومات حاصل کرنے کے قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا تاکہ مشتبہ افراد کی مشکوک انٹرنیٹ سرگرمیوں پر زیادہ کڑی نظر رکھی جا سکے۔
سینٹیر گراہم نے کہا کہ امریکی حکام کو یہ معلوم نہیں تھا کہ تیمرلان 2012 میں روس گیا ہے کیوں کہ پاسپورٹ میں اس کے نام کے ہجے غلط تھے۔
فردِ جرم عائد
وفاقی استغاثہ نے جوہر پر ہسپتال کے اندر بڑی تباہی پھیلانے کا ہتھیار استعمال کرنے اور املاک کو مجرمانہ نیت سے تباہ کرنے، جس میں موت واقع ہو سکتی ہے، کے جرائم کی فردِ جرم عائد کی ہے۔
انھوں دونوں الزامات میں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

ہسپتال کے کمرے میں ہونے والی سماعت کے دوران گلے میں گولی کے زخم کے باوجود جوہر نے ایک لفظ بولا۔ جب جج میریئین بی باؤلر نے ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ وکیل کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں تو انھوں نے کہا، ’نہیں۔‘
اس مقدمے کی اگلی سماعت مئی کے آخر میں رکھی گئی ہے۔
گذشتہ پیر کو بوسٹن میراتھن میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں ایک آٹھ سالہ بچہ اور دو خواتین ہلاک ہو گئی تھیں۔ زخمی ہونے والے 180 سے زائد افراد میں سے 13 کے اعضا کاٹنا پڑے۔
محرک نامعلوم
بوسٹن میراتھن دھماکوں کے واحد بچ جانے والے ملزم جوہر سارنیف پر فردِ جرم عائد کیے جانے کے باوجود اب تک اس حملے کا محرک سامنے نہیں آ سکا۔
وفاقی استغاثہ نے جوہر پر ہسپتال کے اندر بڑی تباہی پھیلانے کا ہتھیار استعمال کرنے اور املاک کو مجرمانہ نیت سے تباہ کرنے، جس میں موت واقع ہو سکتی ہے، کے جرائم کی فردِ جرم عائد کی ہے۔
انھوں دونوں الزامات میں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
ہسپتال کے کمرے میں ہونے والی سماعتس کے دوران گلے میں گولی کے زخم کے باوجود جوہر نے ایک لفظ بولا۔ جب جج میریئین بی باؤلر نے ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ وکیل کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں تو انھوں نے کہا، ’نہیں۔‘
اس مقدمے کی اگلی سماعت مئی کے آخر میں رکھی گئی ہے۔
علاوہ ازیں میساچوسٹس ریاست کے جہاں سزائے موت نہیں ہے، استغاثہ کے وکلا اپنی طرف سے جوہر پر فردِ جرم عائد کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ پیر کو بوسٹن میراتھن میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں ایک آٹھ سالہ بچہ اور دو خواتین ہلاک ہو گئی تھیں۔ زخمی ہونے والے 180 سے زائد افراد میں سے 13 کے اعضا کاٹنا پڑے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے کہا ہے کہ’ان کے ساتھ دشمن جنگجو کا سلوک نہیں کیا جائے گا۔‘ انھوں نے کہا، ’ہم اس دہشت گرد کو اپنے سویلین نظامِ انصاف کے ذریعے سزا دیں گے۔‘
جوہر کا بوسٹن کے بیتھ اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سنٹر میں علاج ہو رہا ہے۔ انھیں پولیس مقابلے کے دوران زخم آئے تھے۔ وہ گلے میں زخم کی وجہ سے بول نہیں پا رہے۔







