’جوہر نے خود اپنے بھائی کو کچل دیا‘

جوہر کا بوسٹن کے بیتھ اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سنٹر میں علاج ہو رہا ہے
،تصویر کا کیپشنجوہر کا بوسٹن کے بیتھ اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سنٹر میں علاج ہو رہا ہے

بوسٹن کے نواحی قصبے واٹرٹاؤن پولیس چیف ایڈ ڈیو نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں میراتھن بم دھماکوں کے ملزم جوہر سارنائیف نے اپنے بھائی کو پولیس سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد گاڑی کے نیچے کچل دیا تھا۔

اس سے قبل سمجھا جاتا تھا کہ 26 سالہ تیمرلان سارنائیف گولیوں اور بم دھماکوں سے آنے والے زخموں کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم ڈیو نے بوسٹن گلوب اخبار کو بتایا کہ 19 سالہ جوہر نے چوری شدہ گاڑی ان کے اوپر چڑھا دی تھی اور تیمرلان بظاہر ان زخموں کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

جب تیمرلان کے پاس گولیاں ختم ہو گئیں تو پولیس نے انھیں پکڑ لیا تھا۔ لیکن جب وہ انھیں ہتھکڑیاں پہنانے لگے تو جوہر گاڑی بھگا کر ان کے بالکل اوپر لے آئے۔ ڈیو نے کہا کہ پولیس والے ادھر ادھر ہو گئے اور جوہر نے گاڑی تیمرلان پر چڑھا دی۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد جوہر گاڑی سے نکل آئے اور پیدل ہی بھاگ نکلے۔

جوہر کو جمعے کی رات ایک بڑی تلاشی مہم کے دوران پکڑا گیا تھا۔ اس سے قبل پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ان کے بڑے بھائی تیمرلان سارنائیف مارے گئے تھے۔

گذشتہ پیر کو بوسٹن میراتھن میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں ایک آٹھ سالہ بچہ اور دو خواتین ہلاک ہو گئے تھے۔ زخمی ہونے والے 180 سے زائد افراد میں سے 13 کے اعضا کاٹنا پڑے۔

ملزمان کو پکڑنے کی کوشش میں ایک پولیس والا مارا گیا جب کہ دوسرا زخمی ہو گیا۔

فردِ جرم

ادھر امریکی وفاقی پراسیکیوٹر بوسٹن میراتھن دوڑ میں بم دھماکوں کے ملزم جوہر سارنائیف کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اگر ان پر بڑی تباہی کے ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا تو پھر انھیں سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے۔

جوہر کا بوسٹن کے بیتھ اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سنٹر میں علاج ہو رہا ہے۔ انھیں پولیس مقابلے کے دوران زخم آئے تھے۔ وہ گلے میں زخم کی وجہ سے بول نہیں پا رہے۔

جوہر اس وقت ہسپتال میں ہیں، اور گلے میں زخم کی وجہ سے بول نہیں پا رہے
،تصویر کا کیپشنجوہر اس وقت ہسپتال میں ہیں، اور گلے میں زخم کی وجہ سے بول نہیں پا رہے

امریکی میڈیا نے کہا کہ وہ لکھ کر سوالوں کا جواب دے رہیں ہیں تاہم اس بات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

بوسٹن کے میئر ٹام مینینو نے اس سے قبل اے بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ ’یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا ہم جوہر سے کبھی بھی پوچھ گچھ کر سکیں گے۔‘

تاہم مختلف امریکی نیٹ ورکس نے اتوار کی رات بتایا کہ جوہر تحریری تفتیش کا جواب دے رہے ہیں۔ ان میں ان کے دوسرے ساتھیوں اور دھماکا خیز مواد کے بارے میں سوال شامل ہیں۔

ابھی تک اس حملے کا کوئی مقصد سامنے نہیں آیا۔ دونوں بھائیوں کا تعلق چیچنیا سے ہے، اور وہ گذشتہ دس سال سے امریکہ میں مقیم تھے۔

یہ معلوم نہیں کہ جوہر پر کب الزام عائد کیا جائے گا۔ وفاقی الزامات کے علاوہ ریاست میساچوسٹس کے پراسیکوٹر بھی ان پر الزامات عائد کر سکتے ہیں۔

میئر مینینو نے کہا کہ انھوں امید ہے کہ وفاقی پراسیکیوٹر کارمن اورٹز جوہر پر وفاق کی طرف سے الزامات عائد کریں گے اور انھیں قانون کی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تیمرلان نے ایک خطیب کو مسجد میں خطبے کے دوران ٹوک دیا تھا
،تصویر کا کیپشنتیمرلان نے ایک خطیب کو مسجد میں خطبے کے دوران ٹوک دیا تھا

تفتیش کار جوہر کو میرانڈا حقوق پڑھ کر نہیں سنا رہے۔ ان حقوق میں خاموش رہنے کا حق اور وکیل سے رجوع کرنے کا حق شامل ہیں۔ اس استثنیٰ کی اس وقت قلیل مدت کے لیے اجازت دی جاتی ہے جب عوام کو خطرہ لاحق ہو۔

شدت پسندی

بوسٹن پولیس کے کمشنر ایڈ ہیرس نے اتوار کو کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ دونوں بھائی مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اسی اخبار نے لکھا ہے کہ تیمرلان نے کیمبرج میں ایک مسجد میں اس وقت امام کو خطبے میں ٹوک دیا جب انھوں نے پیغمبرِ اسلام کا انسانی حقوق کے داعی مارٹن لوتھر کنگ سے تقابل کیا۔

تیمرلان نے امام سے کہا، ’تم کافر ہو،‘ اور لوگوں کو گمراہ کر رہے ہو۔

اتوار کے روز امریکی قانون سازوں نے ایف بی آئی پر سوال اٹھایا کہ جب روس نے دو سال قبل تیمرلان سے پوچھ گچھ کرنے کی درخواست کی تو ایف بی آئی خطرے کی نشان دہی کیوں نہیں کر سکی۔