’حملے خود کیے، کسی کی مدد نہیں لی‘

جوہر ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں
،تصویر کا کیپشنجوہر ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں

امریکہ میں بوسٹن میراتھن دھماکوں کے ملزم جوہر سارنائیف نے کہا ہے کہ وہ اور ان کے بھائی نے ان حملوں کی منصوبہ بندی خود کی تھی اور انہوں نے بیرونی عسکریت پسندوں سے کوئی مدد نہیں لی۔

یہ بات نامعلوم سرکاری اہکاروں نے امریکی میڈیا کو بتائی ہے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اْنیس سالہ جوہر کی طرف سے تفتیش کاروں کے سوالوں کے تحریری جوابوں میں دی گئی معلومات سے انہیں یقین ہو گیا کہ دونوں بھائی جہادی نظریات سے متاثر تھے اور انہوں نے بم بنانے کا طریقۂ کار انٹرنیٹ سے سیکھا۔

تاہم ان ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی تحقیقاتی انٹرویوز تھے اور وہ اس کی تصدیق کریں گے۔

تیمرلان کی بیوہ کیترین رسل کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کی موکلہ حکام کی مدد کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ کیترین ’ان واقعات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ تفتیش کاروں نے کیترین سے تفتیش کی ہے یا نہیں۔

دوسری طرف امریکی سکیورٹی حکام کو سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی جانب سے اس معاملے پر سوالات کا سامنا ہے کہ ایف بی آئی جوہر کے 26 سالہ بھائی تیمرلان کے خلاف خفیہ معلومات سے بدانتظامی سے پیش آئی تھی۔

تیمرلان سے 2011 میں روسی حکومت کی درخواست پر تفتیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ شدت پسند اسلام اختیار کر چکے ہیں۔ تاہم بظاہر ان کے خلاف ایف بی آئی نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

کانگریس کے کچھ ارکان نے اس معاملے میں ایف بی آئی پر تنقید کی تھی، جس کے بعد سکیورٹی حکام سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کو بند کمرے میں بریفنگ دیں گے۔

تیمرلان گذشتہ جمعے کو پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے جب کہ ان کے زخمی بھائی پر فردِجرم عائد کر دی گئی ہے۔

کانگریس کے ارکان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ تیمرلان کے خلاف مزید کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔توقع ہے کہ پورے سینٹ کو اس ہفتے کے آخر میں بریفنگ دی جائے گی۔

ایف بی آئی نے اپنا دفاع کرتے ہوئے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے تیمرلان کے بارے میں تفتیش کی تھی لیکن کسی دہشت گردانہ سرگرمی کا سراغ نہیں ملا۔

جوہر کا بوسٹن کے بیتھ اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سنٹر میں علاج ہو رہا ہے۔ انھیں پولیس مقابلے کے دوران زخم آئے تھے۔ وہ گلے میں زخم کی وجہ سے بول نہیں پا رہے۔

یادر ہے کہ گذشتہ پیر کو بوسٹن میراتھن میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں ایک آٹھ سالہ بچہ اور دو خواتین ہلاک ہو گئے تھے۔ زخمی ہونے والے 180 سے زائد افراد میں سے 13 کے اعضا کاٹنا پڑے۔

ملزمان کو پکڑنے کی کوشش میں ایک پولیس والا مارا گیا جب کہ دوسرا زخمی ہو گیا۔