ڈنمارک میں آزادئ رائے کےسیمینار پر فائرنگ، 1 شخص ہلاک

واقعے میں ملوث دو مسلح افراد تاحال مفرور بتائے جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہkopenhagen

،تصویر کا کیپشنواقعے میں ملوث دو مسلح افراد تاحال مفرور بتائے جا رہے ہیں

ڈنمارک کی پولیس کے مطابق کوپن ہیگن میں آزادئ رائے کے بارے میں جاری ایک سیمینار میں فائرنگ سے تین پولیس افسران زخمی جبکہ ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

واقعے میں ملوث دو مسلح افراد تاحال مفرور بتائے جا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عمارت کے باہر 40 سے زیادہ گولیاں چلائی گئیں۔

پیغمبرِ اسلام کے خا کے بنانے والے سویڈن کے متنازعہ کارٹونسٹ ’لارس ولکس‘ بھی اس سیمینار میں موجود تھے۔

حملے کےکچھ دیر بعد ہی فرانسیسی سفیر ’فرانسوا زمئغ‘ نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

اس حملے کے نتیجے میں سامنے آنے والی ایک آڈیو ریکارڈنگ میں ایک مقرر کی تقریر میں اچانک گولیوں کی آواز سے خلل پیدا ہوتا سنائی دیتا ہے۔

عینی شاہدین نائلز اوار لارسن نے اے پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے ایک خودکار مشین گن سے فائرنگ کی آواز سنی اور پھر کسی کے چیخنے کی آوازیں سنیں۔ جب پولیس نے جوابی فائرنگ کی تو میں بار کے نیچے چھُپ گیا۔‘

کوپن ہیگن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پولیس نے عمارت کو گھیرے میں لے کر علاقے کی ناکہ بندی کردی ہے اور مقامی پارک کی بھی تلاشی لی جا رہی ہے۔

لارس ولکس کو کئی سالوں سے قتل کی دھمکیوں کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنلارس ولکس کو کئی سالوں سے قتل کی دھمکیوں کا سامنا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ وہ دہ مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش میں ہیں جو حملے کی جگہ سے کار میں فرار ہو گئے۔

یہ بحث جو ایک کیفے میں منعقد ہوئی کے بارے میں لارس ولکس نے اپنی ذاتی ویب سائٹ پر لکھا کہ اس کا موضوع یہ تھا کہ آزادئ اظہار کے فنکارانہ اظہار کی کوئی حد ہونی چاہیے یا نہیں۔

فورینزک ٹیمیں حملے کی جگہ کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنفورینزک ٹیمیں حملے کی جگہ کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں

اس تقریب کے حوالے سے دستیاب تفصیل میں لکھا گیا تھا کہ کیا فنکاروں کو خصوصاً چارلی ایبڈو کے حملے کے بعد اپنے فن کے اظہار کرتے ہوئے توہین کا ارتکاب کرنے کی جرات کرنی چاہیے یا نہیں؟

لارس ولکس کو درپیش خطرات کے حوالے سے لکھا گیا تھا کہ جہں بھی وہ پبلک میں خطاب کرتے ہیں وہاں ’سخت سکیورٹی‘ ہوتی ہے۔

حملے کے فوراً بعد امدادی کارکن حملے کی جگہ پہنچے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنحملے کے فوراً بعد امدادی کارکن حملے کی جگہ پہنچے

یاد رہے کہ 2007 میں لارس ولکس نے پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکے بنائے تھے جس کے خلاف دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاج کیا تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس سیمینار کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ واضح طور پر لارس ولکس پر کیا گیا ہے۔

ایک مسلح پولیس اہلکار حملے کے قریب سڑک پر چوکس کھڑا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایک مسلح پولیس اہلکار حملے کے قریب سڑک پر چوکس کھڑا ہے

یاد رہے کہ 2010 میں جنوبی سویڈن میں واقعہ کارٹونسٹ کے گھر کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کے الزام میں دو بھائیوں کو قید کی سزا ہوئی تھی۔

مزاحیہ فنکار جو اسلام پر تنقید کرتے ہیں اور ان پر جنوری میں پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد سے توجہ ہے جن میں تین مختلف واقعات میں 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ اُن کے وزیرِ داخلہ برنارڈ کیزینیو جلد ہی ڈنمارک کے دارالحکومت کا دورہ کریں گے۔

ڈنمارک کے اخبارات میں 2005 میں پیغمبرِ اسلام کے خاکے شائع کیے گئے تھے جس کے بعد دنیا بھر میں فسادات ہوئے جس کے نتیجے میں کئی فراد اپنی جان سے گئے۔