ڈنمارک، کارٹونسٹ پر حملہ آور کو قید

کرٹ ویسٹرگارڈ
،تصویر کا کیپشنکرٹ کے خاکوں پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے ناراضگی ظاہر کی تھی

پیغمبر اسلام کا خاکہ بنانے والے ڈنمارک کے متنازعہ کارٹونسٹ کرٹ ویسٹرگارڈ پر حملہ کرنے والے ایک صومالی شہری کو ڈنمارک کی ایک عدالت نے نو برس قید کی سزا سنائی ہے۔

اس مقدمے میں عدالت نے انتیس سالہ صومالی شہری محمد جیلے کو گزشتہ روز قصواوار ٹھہرایا تھا۔

ان پر پچھہتر سالہ ڈینش کارٹونسٹ کرٹ ویسٹرگارڈ کو قتل کرنے اور دہشت گردانہ کارروائی کرنے کا الزام تھا۔ سزا کاٹنے کے بعد محمد جیلے کو ڈنمارک سے صومالیہ بدر کرنے کا بھی امکان ہے۔

اس حملے میں کارٹونسٹ اپنے ایک کمرے میں چھپ گئے تھے اس لیے وہ بچنے میں ناکام رہے تھے۔

اس مقدمے میں انہیں زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا مل سکتی تھی لیکن سرکاری وکیل نے بارہ برس قید کا مطالبہ کیا تھا۔

محمد کے وکیل نے زیادہ سے زیادہ چھ برس قید کی سزا دینے کو کہا تھا اور ملک سے نا نکالنے کی استدعا کی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ حملہ آور نے اس کے لیے پوری منصوبہ بندی کی تھی۔

عدالتی کارروائی کے دوران اس بات پر سماعت ہوئی کہ کہ جیلے نے دو ہزار دس کے نئے سال کے موقع پر دروازہ توڑ کر ویسٹرگارڈ کے مکان کے اندر گھس گئے تھے۔ مسٹر ویسٹرگارڈ اس وقت اپنی پانچ سالہ بیٹی کے ساتھ گھر میں موجود تھے۔

کارٹونسٹ ویسٹرگارڈ نے عدالت کو بتایا کہ محمد جیلے کے پاس کلاڑھی اور چاقو تھا، جنہوں نے چیخ کر کہا ’تمہیں ضرور مرنا ہوگا‘ اور ’تم جہنم میں جاؤگے۔‘

انہوں نے اپنی بچی کو باہر ہی چھوڑ کر اپنے آپ کو باتھ روم میں بند کرلیا۔ انہوں عدالت کو بتایا ’چونکہ حملہ آور میرے پیچھ پڑا تھا نا کہ جو لوگ میرے آس پاس تھے۔‘

ان کی بیٹی سٹیفنی اس حملے میں پوری طرح محفوظ رہی تھیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں لگا تھا کہ جیلے چوری کرنے آئے تھے اس لیے انہوں نے ان سے باہر جانے کو کہا تھا۔

اس دوران جیلے نے کلاڑھی سے باتھ روم کے دروازے کو توڑنا شروع کیا لیکن جب پولیس کی گاڑی کے سائرن کی آواز آئی تو وہ بھاگے پڑے۔

لیکن پولیس نے ان کے پیر پر گولی مار دی تھی اور پھر انہیں گرفتار کرلیا تھا۔

کرٹ ویسٹرگارڈ نے پانچ برس پہلے پیغمبراسلام کے بارے میں وہ توہین آمیز کارٹون بنائے تھے جن پر ساری دنیا میں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا تھا اور ڈنمارک اور مسلم دنیا کے مابین تعلقات بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ کرٹ ویسٹرگارڈ نے کبھی بھی اپنے فعل پر ندامت ظاہر نہیں کی۔