اگلے 15 سالوں میں غربت میں تاریخی کمی واقع ہو گی: گیٹس فاؤنڈیشن

’عالمی صحت اور ترقیاتی کاموں کے علاوہ افریقہ کو درآمد پر منحصر نہ ہونے کے ہدف کو پانے کے لیے بڑی کامیابی کی ضرورت ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’عالمی صحت اور ترقیاتی کاموں کے علاوہ افریقہ کو درآمد پر منحصر نہ ہونے کے ہدف کو پانے کے لیے بڑی کامیابی کی ضرورت ہے‘

گیٹس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اگلے 15 سالوں میں غربت میں اتنے بڑے پیمانے پر کمی واقع ہو گی کہ ’انسانی تاریخ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔‘

بل گیٹس اور ان کی اہلیہ ملینڈا گیٹس نے ایک خط میں دنیا کے سب سے بڑی امدادی ادارے گیٹس فاؤنڈیشن کے اہداف بیان کیے ہیں۔

خط میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ عالمی صحت اور ترقیاتی کاموں کے علاوہ افریقہ کو درآمد پر منحصر نہ ہونے کے ہدف کو پانے کے لیے بڑی کامیابی کی ضرورت ہے۔

گیٹس فاؤنڈیشن کے اہداف میں پولیو سمیت چار امراض کے خاتمے کے ساتھ ساتھ غربت، مرض اور بھوک میں کمی شامل ہیں۔

پولیو کے بارے میں گیٹس فاؤنڈیشن کے سربراہ بل گیٹس نے کہا کہ پولیو کو سب سے پہلے ختم ہونا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افریقہ میں گذشتہ چھ ماہ میں پولیو کا ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا۔

’پولیو سب سے زیادہ کیسز پاکستان میں رپورٹ ہو رہے ہیں اور حکومتِ پاکستان یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان واحد ملک رہ گیا ہے اس لیے اس کی ساری توجہ اس پر مرکوز ہے اور وہ پوری کوشش کر رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ چونکہ پولیو کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ تین سال تک کوئی کیس سامنے نہ آئے اس لیے ’پولیو کا خاتمہ 2018 تک یا ایک دو سال بعد ہو گا۔‘

گیٹس فاؤنڈیشن نے ملیریا کے بارے میں کہا کہ اس بیماری کا خاتمہ اگلے 15 سالوں تک ممکن نہیں ہے۔

ملینڈا گیٹس نے پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ہلاکت کے معاملے پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر نہیں کیا جاتا لیکن یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔