بھارت:غریب دیہاتی بچے انیمیا کا شکار

،تصویر کا ذریعہAFP
بچوں کی فلاح و بہود سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسیف کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ بھارت میں دیہی علاقوں کے بیشتر بچے کمزور اور انیمیا کا شکار ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق گاؤں میں رہنے والے تقریبا اڑتالیس فیصد بچوں کا وزن بھی معمول سے کم ہے۔
یونیسیف نے ’ چلڈرین ان اربن ورلڈ ‘ کے نام سے جاری اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شہری علاقوں میں رہنے والے غریب بچوں کی حالت دیہی علاقوں کے بچوں سے زیادہ خراب ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق اس وقت شہروں میں رہنے والے لوگوں کی تعداد تقریباً سینتیس کروڑ ہے اور اس میں سے زیادہ تعداد ان افراد کی ہے جو گاؤں سے نقل مکانی کر کے شہر آئے ہیں۔
یونیسیف کے مطابق بھارت کے بڑے شہروں میں ایسے غریب افراد پر مشتمل تقریبا پچاس ہزار گندی بستیاں ہیں جس میں ہر تین میں سے ایک شخص یا تو نالے یا پھر ریل کی لائن کے پاس رہتا ہے۔
شہروں کی ان گندی بستیوں کے آس پاس رہنے والے بچوں کی حالت گاؤں کے بچوں سے بھی بری ہے جن کی پرورش صحیح طریقے سے نہیں ہو پاتی۔
یونیسیف نے بھارت پر زور دیا ہے کہ جس طرح حکومت نے بچوں کی فلاح کے لیے دیہی علاقوں میں مختلف سکیمیں شروع کی ہیں شہری بچوں کے لیے بھی ویسے ہی انتظامات کیے جائیں۔
ممبئی میں ’ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس‘ کے سربراہ ڈاکٹر ایس پرسو رام کا کہنا ہے کہ بھارت میں غربت کے سبب کم عمر کے بچوں کی اموات زیادہ ہوتی ہیں اور اس سے سب سے زیادہ دلت اور مسلم برادری کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق بیشتر گندی بستیاں ریاست مہاراشٹر، آندھرا پردیش، مغربی بنگال، تمل ناڈو اور گجرات میں ہیں۔







