ایئرایشیا جہاز کے ملبے کی تلاش دوسرے ہفتے میں داخل

،تصویر کا ذریعہGetty
بحیرۂ جاوا میں ایئر ایشیا کی پرواز QZ8501 کی تلاش دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے، اور خراب موسم جہاز کے بڑے حصے کی تلاش میں اب تک رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
غوطہ خور اچھے موسم کا انتظار کر رہے ہیں لیکن اب تک انھیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سمندر میں جہاز کے ملبے کا پانچواں بڑا حصہ ڈھونڈ لیا گیا ہے، جب کہ ایک اور لاش بھی نکالی گئی ہے جس سے اب تک ملنے والی لاشوں کی کل تعداد 31 ہو گئی ہے۔
ایئر ایشیا کا یہ جہاز گذشتہ اتوار کو انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے سنگاپور جا رہا تھا کہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ جہاز پر 162 افراد سوار تھے۔
جہاز کے ملبے کے بڑے حصے کی تلاش میں خراب موسم روڑے اٹکاتا رہا ہے۔
اب تک جہاز کے بلیک باکس اور فیوزیلاژ (جہاز کا مرکزی حصہ جہاں مسافر بیٹھتے ہیں) کو نہیں ڈھونڈا جا سکا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ بیشتر مسافروں کی لاشیں فیوزیلاژ کے اندر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ہفتے کے روز حکام نے کہا تھا کہ ایک بحری جہاز نے سونار کی مدد چار بڑی اشیا دریافت کی ہیں، جن میں سے سب سے بڑی 59 فٹ لمبی اور 18 فٹ چوڑی ہے، اور یہ سمندر میں تقریباً ایک سو فٹ کی گہرائی میں پڑی ہوئی ہے۔
ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے کیمروں کی مدد سے ان اشیا کی تصاویر لینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن 16 فٹ اونچی لہروں نے اس کام کو بےحد مشکل بنا دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتوار کو تلاش اور بچاؤ کے ادارے کے سربراہ بمبانگ سوئلیستو نے کہا کہ ایک پانچواں جسم بھی تلاش کر لیا گیا ہے جس کی لمبائی 32 فٹ اور چوڑائی ساڑھے تین فٹ کے قریب ہے اور یہ سمندر کی تہہ میں پڑا ہوا ہے۔
انڈونیشیا اور روس سے تعلق رکھنے والے درجنوں غوطہ خور تلاشی کی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ تلاشی کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے کیوں سمندر میں تلاطم کی وجہ سے لاشیں اور ملبے کے حصے دور دور تک پھیل گئے ہیں۔
تلاش اور بچاؤ کے ادارے کے نائب سربراہ تتانگ زین الدین نے کہا: ’اس مہم میں ہمارا مقابلہ وقت اور موسم سے ہے۔‘
اس سے قبل حادثے کے مقام سے قریبی شہر پنگ کلان بن میں محکمۂ موسمیات کے سربراہ رکمان صالح نے کہا تھا کہ اتوار اور پیر کو موسم اتنا صاف ہو جائے گا کہ اس سے تلاشی کی کارروائیوں میں مدد ملے گی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ایک اور عہدے دار ایس بی سپریادی نے کہا کہ 95 غوطہ خور موسم بہتر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ انھوں نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم پانی کے اندر تلاش پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، اور امید ہے کہ ہم مزید لاشیں نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘
انڈونیشیا کے محکمۂ موسمیات نے کہا کہ ہے کہ جہاز کے غائب ہونے کے وقت سے اندازہ ہوتا ہے کہ جہاز ممکنہ طور پر طوفان میں گِھر گیا تھا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ابتدائی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ ہوا اتنی یخ بستہ تھی کہ اس نے جہاز نیچے گرا دیا۔
اطلاعات کے مطابق انڈونیشیا سے سنگاپور جاتے ہوئے بحیرۂ جاوا میں گر کر تباہ ہونے والے ایئر ایشیا کے مسافر بردار طیارے کے پاس حادثے والے دن پرواز کا لائسنس ہی نہیں تھا۔
اس پرواز کو صرف ہفتے کے دیگر چار دنوں میں اس ہوائی راستے پر پرواز کرنے کی اجازت تھی۔
انڈونیشیا کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے اب سورابايا سے سنگاپور جانے والی ایئر ایشیا کی تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔







