ایئر ایشیا حادثہ: ہلاک شدگان کی یاد میں دعائیہ تقریب

،تصویر کا ذریعہGetty
انڈونیشیا کے شہر سورابایا میں سینکڑوں افراد نے مسافر بردار طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں دعائیہ تقریب میں شرکت کی ہے اور شمعیں روشن کی ہیں۔
ملائیشیا کی نجی فضائی کمپنی ایئر ایشیا کی جو پرواز اتوار کو سنگاپور جاتے ہوئے بحیرۂ جاوا میں گر کر تباہ ہوئی تھی اس نے اپنا سفر سورابایا سے ہی شروع کیا تھا۔
اس طیارے کا ملبہ دو دن کی کوشش کے بعد منگل کو تلاش کر لیا گیا تھا تاہم خراب موسم کی وجہ سے ملبے کو سمندر سے نکالنے اور لاشوں کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔
بدھ کو سنہ 2014 کی آخری شب منعقد ہونے والی دعائیہ تقریب میں سینکڑوں شہریوں اور ہلاک شدگان کے لواحقین اور رشتہ دار شریک ہوئے اور مرنے والوں کی یاد میں خاموشی اختیار کی۔
اس پرواز کے زیادہ تر مسافروں کا تعلق انڈونیشیا سے ہی تھا۔
کیو زیڈ 8501 نامی پرواز پر کل 162 افراد سوار تھے جن میں 137 بالغ مسافروں، 17 بچوں اور ایک شیر خوار بچے کے علاوہ عملے کے سات ارکان بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
بدھ کی شام تک سمندر سے صرف سات افراد کی لاشیں ہی نکالی جا سکی ہیں جبکہ منگل کو نکالی گئی دو لاشوں کو بھی بدھ کی صبح سورابایا پہنچایا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈونیشیا کے صوبے مشرقی جاوا میں اس حادثے کی وجہ سے نئے عیسوی سال کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تمام تقاریب منسوخ کر دی گئی ہیں۔
دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سورابایا کے میئر تری رمشارینی نے کہا کہ ’آئیے مل کر طیارے کے مسافروں کی جدائی کا دکھ سہنے والے خاندانوں کے لیے دعا کریں۔ دعا ہے کہ یہ وہ آخری مصیبت ہو جس کا سامنا سورابایا کو کرنا پڑے۔‘
ملک کے دارالحکومت جکارتہ میں لوگوں نے نئے سال کا آغاز طیارے کے حادثے میں مرنے والوں کے لیے دعا سے کیا۔
اس سے قبل بدھ کی صبح اس حادثے میں ہلاک ہونے والے دو افراد کی لاشیں سورابایا لائی گئیں۔ ان لاشوں کے تابوتوں پر ایک اور دو کے ہندسے تحریر تھے کیونکہ اب تک ان کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
سمندر سے نکالی جانے والی بقیہ پانچ لاشیں اس وقت ایک بحری جہاز پر موجود ہیں۔ ان سات لاشوں میں سے چار مرد اور تین خواتین کی ہیں اور ایک لاش کی شناخت عملے کے رکن کے طور پر ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حکام نے تباہ ہونے والی پرواز پر سفر کرنے والے افراد کے لواحقین سے ڈی این اے دینے کو کہا ہے کہ تاکہ لاشوں کی شناخت کی جا سکے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ملبے اور لاشوں کی تلاش کے عمل سے متعلق انڈونیشیا کی فضائیہ کے افسر نائب ایئر مارشل سوناربو ساندی کے حوالے سے کہا ہے کہ سمندر میں طغیانی کی وجہ سے لاشیں بہہ کر ساحلی علاقوں میں بھی جا سکتی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ منگل کے مقابلے میں بدھ کو ملبہ بہہ کر 50 کلومیٹر سے زیادہ دوری پر چلا گیا تھا۔
خراب موسم کی ہی وجہ سے بدھ کو تلاش کا عمل بری طرح متاثر ہوا اور تیز ہواؤں اور دو میٹر اونچی لہروں کی وجہ سے نہ صرف ہیلی کاپٹروں کو اتار لیا گیا بلکہ غوطہ خور بھی اپنا کام نہ کر سکے۔
طیارے کے ملبے کی تلاش کا عمل ایک عالمی آپریشن ہے جس میں انڈونیشیا کو ملائیشیا، سنگاپور، آسٹریلیا اور تھائی لینڈ کے علاوہ امریکہ کی مدد بھی حاصل ہے۔
اس کارروائی میں شریک افراد نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ طیارے کا بلیک باکس ڈھونڈ نکالیں گے جس سے حادثے کی وجہ معلوم ہو سکے گی۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ طیارہ کس وجہ سے تباہ ہوا لیکن پائلٹ نے کنٹرول ٹاور سے اپنی آخری بات چیت میں خراب موسم کی وجہ سے مزید بلندی پر جانے کی اجازت مانگی تھی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service







