ایئر ایشیا حادثہ: دو لاشیں انڈونیشیا پہنچا دی گئیں

لواحقین سے کہا گیا ہے کہ وہ لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کے نمونے فراہم کریں
،تصویر کا کیپشنلواحقین سے کہا گیا ہے کہ وہ لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کے نمونے فراہم کریں

ایئر ایشیا کی حادثے کا شکار ہونے والی فلائٹ کیو زیڈ 8501 کے مسافروں کی ملنے والی پہلی دو لاشیں انڈونیشیا پہنچا دی گئی ہیں جہاں لواحقین ان کا انتظار کر رہے ہیں۔

لواحقین سے کہا گیا ہے کہ وہ لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کے نمونے فراہم کریں۔

انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور جانے والی ایئر بس A320-200 راستے میں لاپتہ ہو گئی تھی۔ بعد میں منگل کو اس جہاز کے ملبے کے کچھ حصے سمندر میں پائے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تاحال سات لاشیں مل گئی ہیں تاہم خراب موسم تلاش کے کام میں مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

انڈونیشیا میں بدھ کو حادثے کا شکار ہونے والوں کی یاد میں ایک تقریب منعقد کی جائے گی جبکہ جاوا صوبے کے گورنر نے کہا ہے کہ نئے سال کی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔

جہاز میں سوار مسافروں میں137 بالغ افراد جبکہ 17 بچے اور ایک شیر خوار بچے شامل تھا۔

تاحال جہاز کے حادثے کا شکار ہونے واجہ معلوم نہیں ہو سکی تاہم جہاز سے آخری رابطے میں پائلٹ نے خراب موسم کے باعث جہاز کو بلندی پر لے جانے کے درخواست کی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ تاحال سات لاشیں مل گئی ہیں تاہم خراب موسم تلاش کے کام میں مشکلات پیدا کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ تاحال سات لاشیں مل گئی ہیں تاہم خراب موسم تلاش کے کام میں مشکلات پیدا کر رہا ہے

اس سے پہلے انڈونیشیا کے جزیرہ بورنیو کے قریب بحیرۂ جاوا سے ایئر ایشیا کے تباہ شدہ طیارے کے ملبے کے ٹکڑے اور کم از کم تین لاشیں برآمد ہونے کے بعد حکام نے تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں تیزی لانے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم خراب موسم کی وجہ سے بدھ کو فضا اور سمندر میں تلاش کا عمل تاخیر کا شکار ہے۔

منگل کو تلاش کے عمل میں مصروف کارکنوں کو لاشوں کے علاوہ اس مقام پر طیارے کے فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر کی تلاش کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے جہاں زیرِ آب طیارے کا ڈھانچہ موجود ہونے کے امکانات ہیں۔

انڈونیشیائی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ علاقے میں حادثے کا شکار ہونے والے مسافروں کی تلاش کے لیے ’ تلاش اور بچاؤ کی بہت بڑی کارروائی‘ شروع کر دی گئی ہے۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو کا کہنا ہے کہ ’بحری جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے بڑے پیمانے پر تلاش کا عمل جاری ہے۔

تلاش کے مقام کا دورہ کرنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ہم مسافروں اور طیارے کے عملے کو جلد از جلد نکالنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔‘

بدھ کی صبح شروع ہونے والی اس کارروائی میں انڈونیشیا کے علاوہ سنگاپور، تھائی لینڈ اور ملائیشیا سمیت متعدد ممالک کے طیارے، بحری جہاز اور ہیلی کاپٹر شریک ہیں۔

سمندر سے طیارے کے کچھ ٹکڑوں کے علاوہ مسافروں کا سامان بھی برآمد کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنسمندر سے طیارے کے کچھ ٹکڑوں کے علاوہ مسافروں کا سامان بھی برآمد کیا گیا ہے

سنگاپور نے اس آپریشن کے لیے ایسے بحری جہاز بھیجے ہیں جن پر نصب سینسرز طیارے کے بلیک باکس سے خارج ہونے والے سگنل کو پکڑ سکتے ہیں۔

طیارے کی تلاش کی کارروائی کے سربراہ بمبانگ سوئلستیو نے منگل کی شام کہا تھا کہ اب تک صرف تین لاشیں تلاش کی جا سکی ہیں۔ اس سے قبل انڈونیشیا کی بحریہ کے اہلکاروں نے 40 لاشیں ملنے کا اعلان کیا تھا۔

اس لاپتہ طیارے کے مسافروں کے لواحقین بھی تین دن سے اپنے پیاروں کے بارے میں خبر سننے کے منتظر ہیں۔

ایسے ہی ایک شخص ایفان جوکو نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’میں جانتا ہوں کہ طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے لیکن یہ نہیں مان سکتا کہ میرا بھائی اور اس کے اہلِ خانہ مر چکے ہیں۔‘

ایفان کا کہنا تھا کہ اس حادثے میں انھوں نے سات رشتہ داروں کو کھویا ہے جن میں سے تین بچے تھے۔ یہ سب افراد نئے سال کا جشن منانے سنگاپور جا رہے تھے۔

انڈونیشیا کے ٹیلی ویژن پر منگل کو براہِ راست دکھائی جانے والی ایک اخباری کانفرنس میں ملبے کے علاوہ ایک لاش بھی پانی پر تیرتی دکھائی گئی تھی۔

انڈونیشیا کے شہری ہوابازی کے سربراہ جوکو مرجاتموجو نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جہاز کا دروازہ اور کارگو دروازہ مل گیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’فی الحال اس بات کی تصدیق کی جا سکتی ہے کہ ان کا تعلق ایئرایشیا کے جہاز سے ہے۔‘

مرجاتموجو نے کہا کہ یہ اشیا انڈونیشیا کے وسطی کالی مانتن صوبے کے قصبے پنگ کلان بن سے 160 کلومیٹر جنوب مغرب میں ملی ہیں۔

لاپتہ ہونے والا جہاز ملائیشیا کی کمپنی ایئر ایشیا کی ذیلی کمپنی ایئر ایشیا انڈونیشیا کی ملکیت ہے اور انڈونیشیا ہی میں رجسٹرڈ ہے جو مسافروں کو سستی پروازیں فراہم کرتی ہے۔

جہاز کی پرواز کا دورانیہ تین گھنٹے تھا لیکن یہ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد غائب ہو گیا۔

اس سال ملائیشیا کی سرکاری ہوائی کمپنی ملائیشیا ایئرلائن کے دو طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔ البتہ اس سے پہلے ایئرایشیا کے کسی طیارے کو کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا۔

مارچ میں ملائیشیا ایئرلائن کی پرواز ایم ایچ 370 جکارتہ سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی اور اس کا آج تک سراغ نہیں ملا۔ اس طیارے پر 239 افراد سوار تھے۔ جب کہ پرواز ایم ایچ 17 جولائی میں یوکرین کے اوپر سے اڑتے وقت مار گرائی گئی تھی، جس سے اس پر سوار تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جہاز کی پرواز کا دورانیہ تین گھنٹے تھا لیکن یہ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد غائب ہو گیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجہاز کی پرواز کا دورانیہ تین گھنٹے تھا لیکن یہ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد غائب ہو گیا