کینیا:’حملے کا مقصد ملک میں مذہبی جنگ شروع کرنا ہے‘

 شدت پسندوں نے بس مسافروں کو علیحدہ کر کے ان سے قرآنی آیات سننانے کے لیے کہا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن شدت پسندوں نے بس مسافروں کو علیحدہ کر کے ان سے قرآنی آیات سننانے کے لیے کہا گیا

کینیا کے صدر اورو کنیاٹا کے ایک سینیئر مشیر کے مطابق بس پر حملے میں 28 افراد کو قتل کرنے کا مقصد ملک میں مذہبی جنگ شروع کرنا ہے۔

سنیچر کو حکام کے مطابق صومالی شدت پسند گروپ الشباب نے صومالیہ کی سرحد کے قریب ایک بس پر حملہ کر کے 28 افراد کو ہلاک کیا ہے۔

یہ بس کینیا کے دارالحکومت نیروبی جا رہی تھی کہ اسے صومالیہ کی سرحد کے قریب مانڈیرہ کاؤنٹی میں روکا گیا۔

صدر اورو کنیاٹا کے ایک سینیئر مشیر عبدی قادر محمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کینیا میں تمام مذاہب اور عقیدوں سے تعلق رکھنے والے افراد قابل نفرت جرم کے خلاف متحد ہو جائیں۔

انھوں نے کہا کہ ’حملے کا مقصد کینیا میں مسلمانوں اور غیر مسلم کے درمیان تصادم کرانا ہے۔ اس کا مقصد کینیا میں مذہبی جنگ، مذہب کی بنیاد پر لڑائی شروع کرنا ہے۔‘

تقربیاً دس مسلح افراد نے صومالی زبان میں بات کرتے ہوئے مسافروں کو بس سے اترنے کا حکم دیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتقربیاً دس مسلح افراد نے صومالی زبان میں بات کرتے ہوئے مسافروں کو بس سے اترنے کا حکم دیا

عبدی قادر محمد کے مطابق ملک کے کئی مسلمان رہنماؤں نے حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کینیا میں بسنے والے تمام مذاہب اور عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد پر زور دیا ہے کہ وہ قابلِ نفرت جرائم اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف متحد ہو جائیں۔

کینیا کی وزارتِ داخلہ نے کہا کہ سکیورٹی ایجنسیاں حملے کرنے والے ’مجرموں کے گروپ کے پیچھے لگی ہوئی ہیں۔‘

وزارتِ داخلہ کے مطابق قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا جبکہ فوج کے ہیلی کاپٹروں نے حملہ آوروں کے ایک کیمپ کو تباہ کر دیا ہے اور اس کارروائی میں کئی شدت پسند مارے گئے ہیں۔

اس سے پہلے سنیچر کو حکام اور عینی شاہدین کے مطابق مسلح شدت پسندوں نے بس مسافروں کو علیحدہ کر کے ان سے قرآنی آیات سننانے کے لیے کہا گیا۔جو آیات نہ سنا سکے انھیں غیر مسلم تصور کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

الشباب 2011 سے کینیا میں حملے کر رہی ہے۔ الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

الشباب سے منسلک ایک ویب سائٹ پر تنظیم کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ حملہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے ایک ہفتہ پہلے ساحلی شہر ممباسا میں مساجد پر مارے گئے چھاپوں کے بدلے میں کیاگیا۔

بس پر سوار ایک مسافر احمد مہد نے بی بی سی کو بتایا کہ بس پر 60 سے زائد مسافر تھے جب مانڈیرہ قصبے کے قریب اس پر حملہ کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ڈرائیور نے بس کو بھگانے کی کوشش کی لیکن حالیہ بارشوں کی وجہ سے جمع ہونے والی کیچڑ میں پھنس گئی۔

تقربیاً دس مسلح افراد نے صومالی زبان میں بات کرتے ہوئے مسافروں کو بس سے اترنے کا حکم دیا۔

احمد مہد نے کہا کہ’جب ہم بس سے اترگئے تو ہمیں صومالی اور غیر صومالی کی بنیاد پر علیحدہ کیا گیا۔ غیر صومالیوں کو کہا گیا کہ وہ قرآن کی چند آیات سنائیں اور جو آیات نہیں سنا سکے تو انھیں زمین پر لیٹنے کا کہا گیا اور پھر انھیں ایک ایک کر کے سر میں گولی مار دی گئی۔‘

حملے کے بعد مقامی میڈیا نے ایک مقامی سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ حکومت ان کی طرف سے سکیورٹی بڑھانے کے لیے کی جانے والی درخواستوں کا جواب دینے میں ناکام رہی۔

کاؤنٹی ایک سرکاری اہلکار نے ڈیلی نیشن کو بتایا کہ ’اس علاقے میں حملوں کا خطرہ رہتا ہے۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ حکومت نے ہمیں مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے اور اب آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کتنی معصوم اور قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔‘