کینیا:فائرنگ اور پولیس سٹیشن پر حملے میں 29 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہ
افریقی ملک کینیا کے ساحلی شہر لامو میں فائرنگ، گھروں کو آگ لگانے اور پولیس سٹیشن پر حملے کے واقعات میں مقامی ریڈ کراس کے مطابق 29 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سال اسلامی عسکریت پسندوں کے نشانے پر رہنے والے شہر لامو میں شدید فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
نیروبی میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈینس اوکاری کا کہنا ہے کہ مپیکیٹونی کے قریب ہندی میں گھروں کو آگ لگا دی گئی ہے اور گامبا میں ایک پولیس سٹیشن پر حملہ کر دیا گیا ہے۔
کینیا کی ریڈ کراس نے کہا کہ ان دو واقعات میں 29 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ علاقہ ماضی میں صومالی اسلامی شدت پسند تنظیم الشباب کے نشانے پر رہا ہے تاہم اس بات کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی کہ ان واقعات کا ذمہ دار کون ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سنیچر کو رات دیر سے لامو میں ہندی کے تجارتی مرکز میں تقریباً ایک درجن کے قریب مسلح افراد نے فائرنگ کی۔
علاقے کے چیف عبداللہ شاہاسی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’حملہ آوروں نے لوگوں اور ارد گرد کے دیہاتوں کو بلاامتیاز فائرنگ کا نشانہ بنایا۔‘
ضلع کے کمشنر میری نجینگا نے روئٹرز کو بتایا کہ اس واقعے میں سرکاری دفاتر اور املاق کو آگ لگا دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریڈ کراس کے مطابق گامبا میں پولیس سٹیشن پر حملے میں دیگر نو افراد ہلاک ہوئے جن میں آٹھ عام شہری اور ایک پولیس اہلکار تھا جبکہ ایک شخص ابھی تک لاپتہ ہے۔
ان دونوں حملوں کی مزید تفصیلات معلوم نہیں ہیں تاہم کینیا کی نیشنل ڈیزاسٹر آپریشن سینٹر ان واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صورتِ حال سے نمٹ رہی ہے۔
کینیا کا یہ ساحلی علاقہ شدت پسندوں کی طرف سے حملوں کی زد میں رہا ہے۔گذشتہ مہینے کے اوائل میں لامو میں ہوٹلوں اور پولیس سٹیشنوں پر شدت پسندوں کے حملے میں 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ سنہ 2011 کے بعد کینیا میں جنگجوؤں کے کئی حملے دیکھے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اسی سال کینیا نے پڑوسی ملک صومالیہ میں الشباب کے جنگجوؤں کے حلاف فوج بھیجی تھی۔







