’ایبولا ایڈز کے بعد سب سے بڑا چیلنج ہے‘

لائبیریا کے دارالحکومت مونروویا میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ایبولا کے مرض میں مبتلا ایک اور ڈاکٹر مقامی ملک کے سب سے بڑے ہسپتال میں چل بسا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلائبیریا کے دارالحکومت مونروویا میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ایبولا کے مرض میں مبتلا ایک اور ڈاکٹر مقامی ملک کے سب سے بڑے ہسپتال میں چل بسا

امریکی محکمہ صحت کے اعلیٰ ترین افسر ٹامس فریڈن کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی یا ایڈز کی بیماری کے بعد مغربی افریقہ میں پھوٹنے والی بیماری ایبولا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن کے ڈائریکٹر ٹامس فریڈن نے کہا کہ عالمی برادری کو اس بیماری پر قابو پانے کے لیے جلد اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ یہ بیماری ایڈز کی طرح نہ پھیل جائے۔

ورلڈ بینک کے فورم پر بات کرتے ہوئے فریڈن نے کہا کہ ایبولا سے اب تک مغربی افریقہ میں 3860 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 200 طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔

فریڈن کا کہنا تھا: ’میں گذشتہ 30 سال سے طب کے شعبے سے وابستہ ہوں اور اس عرصے میں اتنی سنگین صورتحال میں نے صرف ایڈز کے پھیلاؤ کے وقت دیکھی تھی۔‘

لائبیریا کے دارالحکومت مونروویا میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ایبولا کے مرض میں مبتلا ایک اور ڈاکٹر مقامی ملک کے سب سے بڑے ہسپتال میں چل بسا۔

اس ڈاکٹر کے ساتھیوں نے بتایا کہ وہ جان ٹبن دادا لائبیریا کے سب سے بڑے ہسپتال جان ایف کینیڈی میموریل ہسپتال میں ڈاکٹر تھے۔

جان کی ہلاکت سے ایبولا سے مرنے والے ڈاکٹروں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔