طبی عملہ بھی ایبولا کا شکار ہو سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او

،تصویر کا ذریعہReuters
عالمی ادارہ صحت ڈبلو ایچ او کے ایک سینیئر اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ طبی عملے میں مزید ایبولا کیسز سامنے آ سکتے ہیں اور ایسا ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہو سکتا ہے جہاں عموماً حفظانِ صحت کا نظام بہتر ہوتا ہے۔
پروفیسر پیٹر پائٹ نے کہا کہ انھیں یہ جان کر حیرانی نہیں ہوئی کہ ہسپانوی نرس ایبولا کا شکار ہوئیں ہیں۔ یہ نرس مغربی افریقہ سے باہر پہلی فرد جنھیں یہ وائرس کسی دوسرے مریض سے منتقل ہوا ہے۔
انھوں نے میڈرڈ میں ان دو ہسپانوی مشنریز کا اعلاج کیا تھا جو ایبولا کی وجہ سے مر گئے تھے۔
میڈیا میں نرس کا نام ٹیریسہ رومیرو بتایا گیا ہے۔ جب ان دو مشنریوں کو مغربی افریقہ سے سپین منتقل کیا گیا تو اسی نرس نے ان کی تیمارداری کی تھی۔
انھیں میڈرڈ میں علحیدہ رکھا گیا ہے جبکہ ان کے شوہر سمیت 50 دیگر افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ایبولا کی حالیہ وبا کے دوران اب تک 3400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ان میں زیادہ تر ہلاکتیں سیئرا لیؤن، گنی اور لائبیریا میں ہوئیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جنیوا میں بی بی سی کی نامہ نگار ایمو جین فوکس کا کہنا ہے کہ ایبولا کی وبا کے آغاز سے ڈبلیو ایچ او نے اسے سيئرا لیؤن، گنی اور لائبیریا کے خراب نظامِ صحت کے لیے سب سے خطرناک قرار دیا تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ جن ہسپتالوں بیماریوں کی روک تھام کے بہت زیادہ انتظامات ہیں وہاں اس کا علاج ممکن ہے جبکہ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ میڈرڈ والا واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کی روک تھام قدرے مشکل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایبولا کے ماہر کہے جانے والے پروفیسر پائٹ کو ڈبلیو ایچ او نے اپنے سائنسی مشیر کے طور پر بلایا ہے۔ انھوں نے متبہ کیا ہے کہ ’ہلکی سی جنبش یعنی آنکھ کھجلانا تک خطرناک ہو سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’چھوٹی سے غلطی بھی مہلک ہو سکتی ہے۔مثال کے طور پر آپ اپنے نگہداشت کے علیحدہ کمرے سے باہر نکلتے ہیں اور آپ اپنا حفاظتی لباس اتارتے ہیں۔ آپ پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں اور آپ اپنی عینک نکالتے ہیں اور ذرا سا آنکھ ملتے ہیں۔ اتنے میں بھی کام تمام ہو سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے کہا کہ انھیں میڈرڈ میں نرس کے اس کی زد میں آنے پر کوئی حیرت نہیں ہے۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یورپ اور امریکہ میں مزید معاملات سامنے آ سکتے ہیں۔
ان کے خیال میں افریقہ کے مقابلے یہ بیماری اس تیزی کے ساتھ ان ممالک میں نہیں پھیلے گی۔
دریں اثنا امریکی فوج لائبیریا، گنی اور سرائیلون میں ایبولا کے پھیلاؤ کے خلاف اپنی کوششوں تیز کر رہی ہے۔







