امریکہ میں ایبولا کے پہلے مریض کی تصدیق

امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے مراکز کے ڈائریکٹر ٹامس فرائڈن کے مطابق یہ امریکی سرزمین پر ہونے والا پہلا کیس ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنامریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے مراکز کے ڈائریکٹر ٹامس فرائڈن کے مطابق یہ امریکی سرزمین پر ہونے والا پہلا کیس ہے

امریکی سرزمین پر مہلک ایبولا وائرس کا پہلا مریض سامنے آ گیا ہے۔

اس وائرس سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی اقوامِ متحدہ کی ٹیم کے نئے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں درکار ہیں۔

ایبولا سے متاثرہ شخص کا تعلق ریاست ٹیکسس کے شہر ڈیلس سے ہے تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

ٹیکسس میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ اس نامعلوم شخص کو الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ شخص دو ہفتے قبل امریکہ آنے سے پہلے ممکنہ طور پر لائبیریا میں ایبولا وائرس سے متاثر ہوا ہے۔

واضح رہے کہ ایبولا وائرس کی زد میں آنے کے بعد اب تک مغربی افریقی ممالک میں تین ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ محدود تعداد میں امریکی رضاکار بھی اس کی زد میں آئے تھے تاہم امریکہ لائے جانے کے بعد وہ رو بہ صحت ہیں۔

بیماریوں کی روک تھام کے مراکز کے ڈائریکٹر ٹامس فرائڈن نے منگل کو اخباری نمائندوں کو بتایا: ’ایک شخص جو لائبیریا سے امریکہ آیا ہے اس میں ایبولا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔‘

صحت کے شعبے سے منسلک حکام اب ان تمام لوگوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو وائرس سے متاثر ہونے کے بعد اس شخص کے رابطے میں آئے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنصحت کے شعبے سے منسلک حکام اب ان تمام لوگوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو وائرس سے متاثر ہونے کے بعد اس شخص کے رابطے میں آئے تھے

فرائڈن کے مطابق یہ شخص لائبیریا سے 19 ستمبر کو روانہ ہوا تھا اور دوسرے دن اپنے رشتے داروں سے ملنے امریکہ پہنچا تھا اور اس وقت اس میں وائرس کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہو رہی تھی۔

وائرس کی زد میں ہونے کی علامات 24 ستمبر سے ظاہر ہونا شروع ہوئیں جبکہ 28 ستمبر کو انھیں ٹیکسس کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا اور تنہائی میں سب سے عیلحدہ رکھا گيا ہے۔

ہسپتال کے ایک اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ ہسپتال میں اس طرح کے معاملے سے نمٹنے کی سہولیات پہلے ہی سے موجود ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق یہ شخص لائبیریا میں ایبولا کے مریضوں کے علاج شامل نہیں تھا۔

صحت کے شعبے سے منسلک حکام اب ان تمام لوگوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو وائرس سے متاثر ہونے کے بعد اس شخص کے رابطے میں آئے تھے۔

نشاندہی کے بعد ان لوگوں کی 21 د نوں تک طبی نگرانی کی جائے گی کہ آیا ان کو ایبولا سے متعلق بخار آتا ہے یا نہیں۔

گذشتہ دنوں ایک امریکی رضا کار کو وائرس کی زد میں آنے کے بعد امریکہ لایا گیا تھا اب وہ رو بہ صحت ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ دنوں ایک امریکی رضا کار کو وائرس کی زد میں آنے کے بعد امریکہ لایا گیا تھا اب وہ رو بہ صحت ہیں

مسٹر فرائڈن کے مطابق ممکن ہے کہ اس شخص سے جو اہلِ خانہ پہلے پہل رابطے میں آئے ہوں گے، آنے والے ہفتوں میں ان میں ایبولا کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں۔

تاہم انھوں نے کہا: ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اس میں شک نہیں کہ ہم ایبولا کی اس درآمد کو کنٹرول کرلیں گے تاکہ یہ اس ملک میں نہ پھیل سکے۔ ہم اسے یہیں روک دیں گے۔‘

صحت کی عالمی تنظیم ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اب تک تین ہزار سے زیادہ افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر لائبیریا کے باشندے ہیں۔

ادھر گھانا میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی ایبولا ریسپانس ٹیم کے نئے سربراہ انتھونی بنبری کا کہنا ہے کہ ایبولا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے آئندہ دو ماہ انتہائی اہم ہیں اور اس دوران عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں کرنا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ افریقہ میں ان خاندانوں خصوصاً بچوں کی مدد کرنا بہت ضروری ہے جن کی زندگیاں ان کے والدین کی اس وائرس سے ہلاکت کی وجہ سے تباہ ہوگئی ہیں۔