سیئرا لیون: ہرگھنٹے میں ایبولا کے پانچ کیسز

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک سرکردہ فلاحی تنظیم نے کہا ہے کہ سیئرا لیون میں ہر ایک گھنٹے میں ایبولا وائرس کے پانچ نئے کیسوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت کی سہولتوں کی طلب ترسیل سے کہیں کم ہے۔
سیو دا چلڈرن کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے ایبولا کے 765 نئے کیس رپورٹ کیے گئے ہیں جب کہ مریضوں کے لیے ملک میں صرف 327 بستر ہیں۔
ماہرین اور سیاست دان اس بحران کے عالمی ردِعمل پر بحث کے لیے لندن میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔
اس وائرس سے اب تک 3,338 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ دنیا میں اس وائرس کا سب سے بڑا پھیلاؤ ہے۔ ابھی تک 7,178 کیسوں کی تصدیق ہو چکی ہے اور ان کی اکثریت سیئرا لیون، لائبیریا اور گنی میں ہے۔
سیو دا چلڈرن کا کہنا ہے کہ سیئرا لیون میں ایبولا خطرناک شرح سے پھیل رہا ہے اور ہر ہفتے مریضوں کی تعداد دوگنا ہو رہی ہے۔
تنظیم کے چیف ایگزیکٹیو جسٹن فورستھ کہتے ہیں کہ اس بیماری سے نمٹنے کے لیے بہت کم وقت رہ گیا ہے۔
بی بی سی کے پروگرام ’ٹوڈے‘ میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اس ماہ کے آخر تک سیئرا لیون میں مریضوں کی تعداد بڑھ کر ہر گھنٹے میں دس ہو جائے گی۔
دریں اثنا ایبولا کی روک تھام کے لیے اقوامِ متحدہ کے مشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے وسیع پیمانے پر بین الاقوامی ردِ عمل کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لائبیریا میں موجود اقوامِ متحدہ کے ایبولا سے متعلق رابطہ کار اینتھونی بینبری کا کہنا تھا کہ دور دراز کے علاقوں میں لوگوں کو اپنے آپ کو اس انفیکشن سے بچانے کے طریقوں کی تعلیم دینے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ضروری ہے۔
’ہر 20 دن کے بعد کیسوں میں دو گنا اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بیماری لائبیریا کے ہر ضلعے تک پہنچ چکی ہے۔‘
برطانیہ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ سیئرا لیون میں 700 بستروں کی سہولت فراہم کرے گا لیکن اس میں ابھی ہفتے اور مہینے لگ سکتے ہیں۔







