’نیٹو روس کے خلاف یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے‘

فرانس کے صدر فرنسواں اولاند نے کہا کہ یورپی یونین کا روس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کا انحصار یوکرین میں کی جانی والی امن کوشش میں پیش رفت پر ہوگا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنفرانس کے صدر فرنسواں اولاند نے کہا کہ یورپی یونین کا روس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کا انحصار یوکرین میں کی جانی والی امن کوشش میں پیش رفت پر ہوگا

نیٹو کی عسکری اتحاد نے ویلز میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں کہا ہے کہ نیٹو ’روس کی جانب سے یورکرین کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کے خلاف یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

نیٹو نے روس پر زور دیا کہ وہ یوکرین سے اپنے فوجی باہر نکالے اور اور کرائمیا پر ’غیر قانونی قبضہ‘ ختم کرے۔

دریں اثنا برطانوی حکام نے کہا ہے کہ یورپی یونین اور امریکہ روس کے خلاف مزید پابندیوں کا اعلان جمعے کو کریں گے۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر پیترو پوروشنکو اور باغیوں نے کے کہا ہے کہ ان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ جمعے کو ہو سکتا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل آئیرس فو راس موسن نے ایک بیان میں کہا کہ نیٹو اتحاد نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ ’پیچھے ہٹے اور امن کا راستہ اختیار کرے۔‘

انھوں نے کہا کہ نیٹو کا یوکرین کے ساتھ تعلقات ’مضبوط‘ ہیں اور اتحاد ان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے جس میں یوکرینی اور نیٹو سکیوٹی فورسز کی اکٹھے کام کرنے کی صلاحیت بڑھانا شامل ہے۔

روس مشرقی یوکرین میں باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے یا وہاں پر اپنی فوجیں تعینات کرنے کے الزامات کو رد کرتا ہے۔

روس نواز باغی اپریل سے یوکرین میں سرکاری فوج سے برسرِ پیکار ہیں۔ یوکرین کے مشرق میں واقع دونیتسک اور لوہانسک کے علاقوں میں انھوں نے آزادی کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سے قبل روس نے یوکرین کے علاقے کرائمیا کو ضم کر لیا تھا۔

اب تک یوکرین میں ہونے والے تشدد کے بعد سے 2600 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جب کہ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ یوکرین کی فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ان کے 837 فوجی بھی شامل ہیں۔

نیٹو کے سربراہی اجلاس کے دوران فرانس کے صدر فرنسواں اولاند نے کہا کہ یورپی یونین کا روس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کا انحصار یوکرین میں کی جانی والی امن کوشش میں پیش رفت پر ہوگا۔

انھوں نے اس سے پہلے بدھ کو روس کو جنگی بیڑے کی فراہمی معطل کرکے روس کی طرف یورپ کی سخت پالیسی کا اشارہ دیا۔ فرانس کا روس کے ساتھ سودا 1.2 ارب یوروز کا تھا جس کو منسوخ کرنے سے حکام کے مطابق فرانس کو ایک ارب یوروز کا مالی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔