فرانس نے روس کو جنگی بیڑے کی فراہمی معطل کر دی

روس نواز باغی اپریل سے یوکرین میں سرکاری فوج سے برسرِ پیکار ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروس نواز باغی اپریل سے یوکرین میں سرکاری فوج سے برسرِ پیکار ہیں

فرانس نے روس کو بحریہ کے لیے میسٹرال جنگی بیڑے کی فراہمی یہ کہہ کر معطل کر دی ہے کہ حالات اس بیڑے کی ’ترسیل کے لیے سازگار نہیں ہیں۔‘

فرانس کے صدر فرانسواں اولاند کے دفتر سے ایک بیان میں کہا گیا کہ اس فیصلے کی وجہ روس کی جانب سے یوکرین میں کارروائیاں ہیں۔ فرانس نے روس کو دو جنگی بیڑے فراہم کرنے تھے جن میں سے پہلے بیڑے کی فراہمی معطل کر دی گئی ہے۔

فرانس ابھی تک روس کو اس جنگی بیڑے کی فراہمی کے بارے میں بین الاقوامی دباؤ میں نہیں آ رہا تھا۔ اس کا موقف تھا کہ اسے روس کے خلاف یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں عائد ہونے سے پہلے کیے گئے معاہدے کی پاسداری کرنا پڑ رہی ہے اور اسے منسوخ کرنا مہنگا ہے۔

ان دو بحری ہیلی کاپٹر بردار جہازوں میں سے پہلے ولادیوسٹاک کی فراہمی اکتوبر کے آخر تک متوقع تھی جبکہ دوسرے بحری جہاز کی فراہمی آئندہ سال ہونا تھی تاہم صدر فرانسواں اولاند کے بیان میں ان بحری جہازوں کا کوئی ذکر نہیں۔

فرانس نے یہ اعلان جمعرات کو ویلز میں نیٹو کے سربراہی اجلاس سے پہلے کیا ہے جہاں نیٹو رہنما یوکرین کی کشیدگی میں روس کے ملوث ہونے کے حوالے سے اپنا ردِ عمل ظاہر کرنے پر بحث کریں گے۔

بدھ کو اس سے پہلے یوکرین کے صدر پیترو پوروشنکو نے کہا تھا کہ انھوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ فون پر ’جنگ بندی کے عمل‘ پر اتفاق کر لیا ہے۔

ولادی میر پوتن نے امید ظاہر کی ہے کہ منسک میں روس، یوکرین اور باغیوں کے نمائندے ملاقات کرنے والے ہیں اور جمعے تک امن معاہدے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ روس نواز باغی اپریل سے یوکرین میں سرکاری فوج سے برسرِ پیکار ہیں۔ یوکرین کے مشرق میں واقع دونیتسک اور لوہانسک کے علاقوں میں انھوں نے آزادی کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سے قبل روس نے یوکرین کے علاقے کرائمیا کو ضم کر لیا تھا۔

اب تک یوکرین میں ہونے والے تشدد کے بعد سے 2600 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جب کہ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔