یوکرین: براہِ راست مذاکرات کے باوجود پیش رفت نہ ہو سکی

دونوں صدور نے اپنی ون آن ون ملاقات سے پہلے یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندہ کیتھرین ایشٹن کے ہمراہ یوکرین کے بحران پر ہونے والے مذاکرات میں بھی حصہ لیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندونوں صدور نے اپنی ون آن ون ملاقات سے پہلے یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندہ کیتھرین ایشٹن کے ہمراہ یوکرین کے بحران پر ہونے والے مذاکرات میں بھی حصہ لیا

یوکرین اور روس کے صدور کے درمیان بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں مشرقی یوکرین کے بحران پر ہونے والے پہلے براہِ راست مذاکرات میں بظاہر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں منگل کی شام ہونے والے ان مذاکرات کے بعد یوکرین کے صدر پیٹر پوروشنکو کا کہنا تھا کہ یوکرین کی افواج اور علیحدگی پسندوں کے درمیان جاری لڑائی کو روکنے کے لیے جلد سے جلد ایک لائحۂ عمل تیار کیا جائے گا۔

دوسری جانب روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ روس ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے مدد کرے گا۔

دونوں صدور نے اپنی ون آن ون ملاقات سے پہلے یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندہ کیتھرین ایشٹن کے ہمراہ یوکرین کے بحران پر ہونے والے مذاکرات میں بھی حصہ لیا۔

یہ سربراہی اجلاس مشرقی یوکرین میں دس روسی فوجیوں کی گرفتاری کے بعد منعقد ہوا۔

اس سے قبل کیتھرین ایشٹن نے یوکرین کے بحران پر چھ گھنٹوں تک جاری رہنے والی کثیر فریقی مذاکرات کو مثبت قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں ہر کوئی یہی چاہتا تھا کہ وہ یوکرین کے بحران کو حل کرنے کی جو بھی بہترین کوشش کر سکتا ہے کرے۔

یوکرین کی سکیورٹی سروس کا کہنا تھا کہ اس نے مشرقی یوکرین میں 10 روسی فوجیوں کو دونتسک سے 50 کلومیٹر دور زرکلنے نامی گاؤں کے قریب گرفتار کیا تھا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنیوکرین کی سکیورٹی سروس کا کہنا تھا کہ اس نے مشرقی یوکرین میں 10 روسی فوجیوں کو دونتسک سے 50 کلومیٹر دور زرکلنے نامی گاؤں کے قریب گرفتار کیا تھا

کیتھرین ایشٹن نے متنبہ کیا کہ یوکرین کے بحران کے باعث بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد پر آنے والا سرد موسم تباہ کن اثرات ڈال سکتا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے منگل کو مذاکرات سے پہلے کہا تھا کہ حالیہ بحران اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک طاقت کے استعمال کو روکا نہیں جاتا اور اس کے لیے علیحدگی پسندوں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔

یوکرین کے صدر پیٹر پوروشنکو کا کہنا تھا کہ خونریری کو ختم کرنے کے لیے موثر سرحدی کنٹرول نظام قائم کیا جانا ضروری ہے۔

اس سے قبل یوکرین کی سکیورٹی سروس کا کہنا تھا کہ اس نے مشرقی یوکرین میں دس روسی فوجیوں کو دونتسک سے 50 کلومیٹر دور زرکلنے نامی گاؤں کے قریب گرفتار کیا تھا۔

روس کی وزارتِ دفاع نے روسی نیوز ایجنسی آر آئی آے کو بتایا کہ یوکرین میں پکڑے جانے والے روسی فوجیوں نے یوکرینی سرحد ’غلطی سے‘ پار کی تھی۔

روسی حکومتی ادارے ریا نوستی کے مطابق روسی فوجی قیادت نے کہا ہے کہ ان کے فوجی معمول کے مطابق سرحد پر گشت کر رہے تھے جب انھوں نے ’غلطی سے‘ سرحد پار کر لی۔

یوکرین کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کی یہ حرکت محض ایک غلطی نہیں تھی بلکہ ایک بہت خاص مشن تھا۔

خیال رہے کہ روس نواز علیحدگی پسند گذشتہ چار مہینوں سے یوکرین حکومت کے خلاف ملک کے مشرقی علاقے میں برسر پیکار ہیں اور انھوں نے یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کر رکھا ہے۔

مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں اور یوکرین کی فوج کی جنگ میں گذشتہ چند ماہ میں دو ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تین لاکھ 30 ہزار سے زیادہ کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔