’ایرانی جوہری پروگرام کے معاہدے میں ابھی بہت مسائل ہیں‘

دنیا کے چھ سرکردہ ممالک اور ایران کے درمیان اتوار کو ہونے والی بات چیت بے نتیجہ ثابت ہوئی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندنیا کے چھ سرکردہ ممالک اور ایران کے درمیان اتوار کو ہونے والی بات چیت بے نتیجہ ثابت ہوئی

ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں شامل اہم ممالک نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور عالمی قوتوں کے درمیان بہت سی دراڑیں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کے لیے اب صرف ایک ہفتے کا وقت بچا ہے۔

اس معاہدے پر مذاکرات کے لیے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا پہنچنے والے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اس بابت ابھی بھی ’اہم اختلافات موجود ہیں۔‘ جان کیری کے اس خیال سے فرانس اور برطانیہ بھی اتفاق رکھتے ہیں۔

ایک ایرانی سفیر نے بھی کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ دراڑیں پُر کی جا سکتی ہیں یا نہیں۔

مذاکرات میں ایران کو اس بات کے لیے راضی کیا جائے گا کہ وہ اپنے خلاف پابندیاں ختم کرنے کے بدلے میں اپنے جوہری پروگرام کو محدود کر دے۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کو ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا: ’ہم نے کوئی فیصلہ کن پیش رفت نہیں کی اور ان میں ابھی خاصی دراڑیں موجود ہیں۔‘

ایسے میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ 20 جولائی کی ڈیڈلائن میں توسیع کر دی جائے۔

ویانا میں جاری مذاکرات میں ایران کے ساتھ اہم عالمی قوتوں کا گروپ پی 1+5 شامل ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنویانا میں جاری مذاکرات میں ایران کے ساتھ اہم عالمی قوتوں کا گروپ پی 1+5 شامل ہے

گذشتہ سال اس سلسلے میں ایک عبوری معاہدہ ہوا تھا، تاہم یورینیئم کی افزودگی اور پلوٹونیئم کی پیداوار پر طویل مدتی پابندی لگانے کے سلسلے میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا۔ یاد رہے کہ یورینیئم اور پلوٹونیئم سے جوہری ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں۔

عالمی قوتوں کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کوشاں ہے، جبکہ ایران اس کی سختی کے ساتھ تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ یورینیئم کی افزودگی سے اپنے پاور پلانٹ چلانا اور طبی ضروریات کو پورا کرنا چاہتا ہے۔

اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو ایران پر تیل فروخت کرنے اور تجارت پر عائد پابندیاں ہٹائی جا سکتی ہیں۔

ویانا میں جاری مذاکرات میں ایران کے ساتھ اہم عالمی قوتوں کا گروپ پی 1+5 شامل ہے۔ ان میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی شامل ہیں۔

چین اور روس کے سوا تمام ممالک نے اپنے اعلیٰ ترین خارجہ سفارت کاروں کو ویانا بھیجا ہے۔

جان کیری نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرن ایشٹن سے ملاقات سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’واضح طور پر ابھی بھی کئی اہم رخنے باقی ہیں اس لیے ہمیں دیکھنا ہے کہ آیا ہم آگے بڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کا طویل مدتی یقین دہانی چاہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامریکی وزیر خارجہ ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کا طویل مدتی یقین دہانی چاہتے ہیں

’اس بات کی یقین دہانی اہم ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنانے جا رہا اور یہ کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، اور ہم یہی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

ایران کے عربی ٹی وی چینل العالم کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’تمام اہم اور بڑے مسئلے ابھی بھی متنازع ہیں۔

’ہم دراڑیں کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں یا نہیں۔‘

ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نے اپنی ٹویٹ کے ذریعے سنجیدہ گفتگو پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’بھروسہ ایک دوطرفہ راستہ ہے۔‘

فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فبیوس نے بھی اس معاملے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’دوریاں ابھی بھی قائم ہیں۔‘