ایران کے جوہری پروگرام پر ویانا میں بات چیت

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر ایران اور دنیا کے چھ سرکردہ ممالک کے درمیان آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں بات چیت شروع ہونے والی ہے۔
بات چیت میں حتمی معاہدے کے لیے ایک ایسا مسودہ تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی جس سے ایرانی جوہری مسئلے کا جامع حل نکل سکے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ہرچند کہ فروری سے اس ضمن میں بات چیت کا سلسلہ جاری ہے تاہم ابھی تک کسی قابل ذکر نکات پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
گذشتہ سال نومبر کے مہینے میں جنیوا میں جو معاہدہ ہوا تھا اور جس کا نفاذ رواں سال جنوری میں ہوا تھا، اس کی رو سے کسی جامع حل کے لیے جولائی کے اخیر تک کی مہلت دی گئی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس میں فریقین کی رضامندی سے توسیع کی جا سکتی ہے۔
چھ عالمی طاقتوں پی ون پلس فائیو (جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی شامل ہیں) ممالک کا کہنا ہے کہ ایران مستقل طور پر اپنی حساس جوہری سرگرمیاں ختم کر دے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔
لیکن ایران شدو مد کے ساتھ کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اسے جاری رکھنا چاہتا ہے اور اس کے خلاف جو پابندیاں عائد ہیں انھیں ہٹایا جائے کیونکہ ان کی وجہ سے اس کی معیشت مفلوج ہو رہی ہے۔
ایران کے ساتھ پی5 +1 ممالک کی چار روزہ بات چیت ویانا کے پلائس کوبرگ ہوٹل میں ایک عشائیے کے ساتھ شروع ہوگی جس میں ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف اور یورپی یونین کی پالیسی چیف کیتھرن ایشٹن بھی شریک ہوں گی۔
سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ طرفین میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سیاسی مقاصد اہم ہیں، تاہم تین اہم مسائل پر موجود اختلافات کو ختم کرنا بہت مشکل ہوگا:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
- ایران کی یورینیئم کی افزودگی کی صلاحیت
- اراک میں بھاری پانی کا ری ایکٹر
- ایران کے جوہری پروگرام کی ممکنہ عسکری جہات

،تصویر کا ذریعہReuters
پیر کو ایران کے نمائندوں نے ویانا میں جوہری امور کے نگراں عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے صدر دفتر میں ملاقات کی۔
جوہری امور کے نگراں عالمی ادارے نے تہران سے ایکسپلوڈنگ برج وائر (ای بی ڈبلیو) جیسے دھماکہ خیزہ مادے کی افزودگی کی کوششوں کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ واضح رہے کہ ای بی ڈبلیو مادے کا استعمال جوہری اسلحے میں کیا جا سکتا ہے۔
ایران نے جمعرات تک اپنے ان اقدامات کے بارے میں وضاحت پیش کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جس کے بارے میں پی5 +1 ممالک کو خدشات ہیں۔
اتوار کو صدر حسن روحانی نے متنبہ کیا تھا کہ ایران ویانا میں جوہری فروغ کے حق سے دست بردار نہیں ہو سکتا۔
انھوں نے ایک طبی اور جوہری گروپ سے بات کرت ہوئے کہا: ’اگر دنیا ایران سے بہتر رشتے چاہتی ہے تو اسے ایران کے حقوق کی پاسداری کا راستہ منتخب کرنا ہوگا اور ایرانی ریاست اور ان کے سائنس دانوں کی عزت کرنا ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایران کبھی بھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی کھوج میں نہیں رہا ہے کیونکہ وہ انھیں قانونی نہیں سمجھتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس شفافیت دکھانے کے علاوہ بات چیت کے دوران پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔‘







