’ایران سے تجارت کی اجازت مل گئی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی نجی کمپنی بوئنگ کا کہنا ہے کہ محکمہ خزانہ نے کمپنی کو ایران کو مسافر طیاروں کے کچھ پُرزے فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
بوئنگ کمپنی نے ایران کے ساتھ 1979 سے کوئی لین دین نہیں کیا ہے۔
کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ ایرانی مسافر طیارے محفوظ رہ سکیں۔
یہ اقدام ایران کے ساتھ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کی سربراہی میں طے پانے والے معاہدہ کا حصہ ہے جس میں ایران پر عائد پابندیوں میں وقتی نرمی لائی جا رہی ہے جس کے عوض ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں کچھ کارروائیاں روکنے کی ضمانت دی ہے۔
پابندیوں میں نرمی برطانیہ، چین اور امریکہ کی جانب سے کی جانی ہیں۔
ادھر ایک اور امریکی کمپنی جی ای کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت نے اسے بھی اجازت دی ہے کہ ایران کو 70 کی دہائی میں بیچے گئے کچھ انجنوں کی مرمت کا کام کیا جا سکے۔ یہ کام جی ای کے جرمنی میں سروس سنٹر پر ہونا ہے۔
ایران کی ایئر لائن ایران ایئر ابھی تک 1979 کے بحران سے قبل خریدے گئے طیارے استعمال کر رہی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس تنازع کے بعد لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے ایران اپنے طیاروں کی دیکھ بھال یا نئے طیارے نہیں خرید سکا ہے جس کی وجہ سے اس کے مسافر طیاروں کے حفاظتی معیار میں کمی آئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 25 سالوں ایرانی طیاروں کے 200 چھوٹے بڑے حادثے ہوئے ہیں جن میں 2000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بوئنگ کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے دی گئی اجازت میں صرف طیاروں کی دیکھ بھال کا کام شامل ہے۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس وقت نئے طیاروں کی فروخت پر کوئی بات نہیں ہو رہی اور اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی مستقل معاہدہ طے پاتا ہے تو ایران کو سینکڑوں نئے طیاروں کی ضرورت ہوگی۔







