ایرانی سفیر پر اوباما انتظامیہ کو اعتراض کیوں؟

اوباما انتظامیہ نے امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے والے مسلم طلبہ کے گروہ کی ایک رکن کو اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر کے طور پر نامزد کرنے کے ایران کے قدم کو ’انتہائی پریشان کن‘ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ 1979 میں تہران میں موجود امریکی سفارت خانے میں 52 امریکی شہریوں کو 444 دنوں تک یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا۔
ایران نے اس میں شامل مسلمان طالب علموں کے گروپ سے منسلک رہنے والے حمید ابوطالبی کو اقوامِ متحدہ میں سفیر کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔
امریکی سینیٹرز نے بھی ایران کے اس قدم پر اعتراض کیا ہے۔
سینیٹر ٹیڈ کروز کہتے ہیں کہ وہ ابوطالبی کے لیے امریکی ویزا کے حصول کی ایرانی درخواست کو منسوخ کرنے کے لیے بل لائیں گے۔
محکمہ خارجہ کی ترجمان مریم ہارف نے بدھ کو باقاعدہ بریفنگ میں کہا: ’ہمیں لگتا ہے کہ یہ نامزدگی انتہائی پریشان کن ہوگی۔ ہم اب اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور ہم نے ایران کی حکومت کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔‘
ابوطالبي کا کہنا ہے کہ ان کی امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے والے مسلم طلبہ میں کم از کم شرکت تھی۔
اقوام متحدہ میں ایران کے حکام نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹیکسس سے رپبلکن پارٹی کے رہنما ٹیڈ کروز نے منگل کو سینیٹ میں کہا: ’یہ غلط ہے کہ بین الاقوامی سفارتی پروٹوکول کے نام پر امریکہ ایک ایسے غیر ملکی شہری کی میزبانی کرنے کے لیے مجبور ہو جائے گا جس نے اپنے ملک میں غیر ملکی سفارت کاروں کے حقوق کی دھجیاں اڑائی تھیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ شخص ظاہری طور پر شدت پسند ہے۔‘
ان کے بل کے مطابق صدر براک اوباما اقوام متحدہ کے لیے آنے والے کسی ایسے شخص کو ویزا دینے سے انکار کر سکتے ہیں جو شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہو۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک اور سینیٹر جان میک کین نے ابوطالبي کی تقرری کو ’ایرانی حکومت کی منہ چڑانے والی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔







