کیا ایران میں تبدیلی کا وقت آ گیا ہے؟

ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اصلاح پسندوں کے حمایت یافتہ رہنما حسن روحانی کی کامیابی نے ملک میں حکمران دائیں بازو کی اسٹیبلشمنٹ کو کئی ناپسندیدہ پیغامات دیے ہیں۔
اصلاح پسندوں کے لیے حسن روحانی نہ پہلے اور نہ ہی دوسری پسند تھے۔ بہت ساروں کی امیدیں سابق صدر محمد خاتمی سے وابستہ تھیں لیکن وہ امیدوار کے طور پر سامنے نہیں آئے۔
اس کے بعد اصلاح پسندوں نے سابق صدر اور ایرانی انقلاب کے بانیوں میں سے ایک رہنما اکبر ہاشمی رفسنجانی کی جانب دیکھا لیکن انہیں شورئ نگہبان نے نااہل قرار دے دیا۔
بعد میں جب صدارتی دوڑ میں شامل واحد رہنما اصلاح پسند رضا عارف نے رواں ہفتے کے شروع میں اعلان کیا کہ وہ سابق صدر محمد خاتمی کی ہدایت پر دست بردار ہو رہے ہیں تو اس کے بعد اصلاح پسندوں نے اتفاق رائے سے حسن روحانی کی حمایت کا فیصلہ کیا۔
حسن روحانی نے صدارتی انتخابات میں پچاس فیصد سے تھوڑے زیادہ 50.7 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ٹرن آؤٹ 72 فیصد رہا جس نے یقینی طور پر اصلاح پسندوں کے حوصلے بلند کیے ہیں۔
اصلاح پسندوں کے کئی رہنما گزشتہ چار سال سے گھروں میں نظر بند ہیں جبکہ کئی جیلوں میں ہیں اور ان کے میڈیا کی طاقت میں کمی آئی، انہیں احساس ہوا ہے کہ ووٹرز نے انہیں تبدیلی کا مینڈیٹ دیا ہے۔
اس حقیقت کے برعکس کہ سبز تحریک کے رہنما حسین موسوی اور مہدی کروبی کی طرح حسن روحانی ایک حقیقی اصلاح پسند کی بجائے ایک’اعتدال پسند‘ شخصیت ہیں۔سبز تحریک کے دونوں رہنما اس وقت گھروں پر نظربند ہیں۔
قدامت پسندوں کی شکست

ملک میں اس وقت حکمران قدامت پسندوں کا خاموش رویہ میڈیا کے لب و لہجہ سے واضح ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انتخاب میں شکست کا سامنا کرنے والے قدامت پسند حکمران اتحاد سے منسلک خبر رساں ایجنسی تابناک نے ایجنڈا طے کیا۔
انتخابات کے ایک دن بعد اور انتخابی نتائج کا اعلان ہونے سے پہلے تابناک کے آن لائن شائع ہونے والے اداریے ’ قدامت پسند حکمران اتحاد کے لیے ضروری شکست‘ میں کہا گیا کہ’قدامت پسند حکمران اتحاد کو سمجھنا چاہیے کہ وہ بھی جواب دے ہیں اور احتساب کے دائرے میں آ سکتے ہیں، انہیں لازمی معلوم ہونا چاہیے کہ میڈیا پر اجارہ داری کا دور اختتام پذیر ہو گیا‘۔
سخت گیر اخبار جوان نے انتخابات میں زیادہ ٹرن آؤٹ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا’ایرانی قوم کی پولنگ سٹیشنز کے سامنے متاثر کن تعداد نے ثابت کیا کہ اس کا اسلامی نظام سے ایک مضبوط تعلق ہے اور دوبارہ سے دشمن کو مایوس کیا اور شکست دی۔ نتائج سے قطع نظر ان انتخابات کو گروہوں اور سیاسی کارکنوں کے موجودہ سیاسی رویے کو بدلنے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔‘
ایران میں ریاست کی تمام طاقت رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے پاس ہے اور اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب اور تقریباً تمام میڈیا ان کے کان اور آنکھیں ہیں۔
تو حسن روحانی کی فتح کسی حد تک قدامت پسندوں کے لیے دھچکا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصلاحات کے حامی ایک بار پھر سیاسی میدان میں آ گئے ہیں اور اب بھی طاقت ہیں جسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔
اب یہ سوال اب بھی موجود رہے گا کہ کیا سخت گیر اسٹیبلشمنٹ تبدیلی کے پیغام کو پہچان پائے گی جو ووٹرز نے اسے بھیجا ہے۔







