ایران: نعروں سے پاک خارجہ پالیسی کا عزم

حسن روحانی نے مغرب میں تعلیم حاصل کر رکھی ہے
،تصویر کا کیپشنحسن روحانی نے مغرب میں تعلیم حاصل کر رکھی ہے

ایران کے نئے صدر حسن روحانی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ خارجہ پالیسی میں نعرے بازی سے اجتناب کریں گے۔

ایران میں سنیچر کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں صدر منتخب کیے جانے کی وجوہات میں سے ایک وجہ ملک کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی تھی تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایران اپنے اصولوں سے دست بردار ہو جائے گا۔

حسن روحانی نے ایران کے مغربی ممالک کے ساتھ جاری تناؤ کو کم کرنے کے لیے ’سنجیدہ مذاکرات‘ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیش رو محمود احمدی نژاد کے سخت رویے سے دور رہیں گے۔

انھوں نے کہا ’ہماری خارجہ پالیسی نعرے بازی سے متاثر نہیں ہوگی لیکن ہم لوگ پرزور طریقے سے اپنے قومی مفادات کا دفاع کریں گے‘۔

حسن روحانی نے متنبہ کیا کہ اگر خارجہ پالیسی میں کوئی غلطی ہوتی ہے تو اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔

انھوں نے کہا ’ہمارے مسائل کے حل کے لیے خارجہ پالیسی کلیدی حیثیت رکھتی ہے‘۔

حسن روحانی نے 4 اگست کو اپنا عہدہ سنبھالا اور جمعرات کو ان کی اٹھارہ رکنی کابینہ میں سے تین کے علاوہ تمام کو منظوری مل گئی۔

ان کے نئے وزراء میں بہت سے ایسے ہیں جو مغرب میں رہ چکے ہیں یا انھوں نے اپنی تعلیم وہیں مکمل کی۔

ایران کی خارجہ پالیسی میں مغرب کے ساتھ جس بات پر مستقل تنازع رہا ہے وہ ہے اس کا جوہری پروگرام ہے۔

مغرب کا خیال ہے کہ ایران کے اس پروگرام کا مقصد جوہری ہتھیار تیار کرنا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام مکمل طور سے پرامن مقاصد اور عوام کی فلاح کے لیے ہے۔

فریدوں عباسی داوانی نے سنیچر کو ایرانی جوہری توانائی تنظیم (اے ای او آئي) کی ذمہ داری سابق وزیر خارجہ علی اکبر صالح کے حوالے کی جنہیں صدر روحانی نے تنظیم کی ذمہ داری کے لیے منتخب کیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کے پاس 18,000ہزار سینٹری فیوجز ہیں جن میں سے 10,000 کام کر رہے ہیں۔

ان میں زیادہ تر سینٹری فیوجز پرانے آئی آر 1 ٹائپ کے ہیں اور مذید 7،000 نصب کیے جانے کے لیے تیار ہیں۔