جوہری پروگرام پر بامعنی مذاکرات کی پیشکش

حسن روحانی
،تصویر کا کیپشنیہ معاملہ صرف ’بات چیت سے حل ہو سکتا ہے دھمکیوں سے نہیں‘: حسن روحانی

ایران کے نئے صدر حسن روحانی نے جوہری پروگرام پر عالمی برادری کے ساتھ ’سنجیدہ اور بامعنی‘ مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

اتوار کو حلف برادی کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں صدر روحانی نے کہا تھا کہ انہیں بھروسہ ہے کہ فریقین کے تحفظات کو بات چیت سے اور کم عرصے میں دور کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ صرف ’بات چیت سے حل ہو سکتا ہے دھمکیوں سے نہیں‘۔

منگل کو تہران میں ملکی اور غیر ملکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر روحانی نے کہا کہ وہ اس تنازعے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم دوسرے فریق کے ساتھ سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور مجھے یقین ہے کہ دونوں فریق کے تحفظات کو جلدی ہی دور کیا جا سکتا ہے۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہا تھا کہ ’ کسی بھی طرح کے قانونی دائرے سے باہر یا غیر منطقی مطالبات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہمیں اس مسئلے کے حل کے لیے عملی راستہ اختیار کرنا چاہیے اور ایران کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے۔‘

امریکہ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب ایک موقع ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھائے اور اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے خدشات کو دور کرے۔

امریکہ نے مزید کہا تھا کہ اگر صدر روحانی کی حکومت سنجیدگی کے ساتھ اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہے اور اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا چاہے تو انہیں امریکہ کی شکل میں ایک رضامند ساتھی ملے گا۔‘

مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران جوہری اسلحہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پرگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ان مطالبات کو مسترد کر چکا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کا اپنا پروگرام بند کردے۔