کوئی مغوی ایرانی محافظ پاکستان میں نہیں ملا: پاکستان

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے ساتھ مسلسل کشیدگی کے باعث، پاکستان ایران کے ساتھ تناؤ کے متحمل نہیں ہو سکتا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے ساتھ مسلسل کشیدگی کے باعث، پاکستان ایران کے ساتھ تناؤ کے متحمل نہیں ہو سکتا
    • مصنف, عنبر شمسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران سے اغوا کیےگئے ایرانی سرحدی محافظوں میں سے ایک کی لاش ایران میں ملی ہے اور ان میں سے کوئی بھی پاکستان میں نہیں ملا۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ ایک ایرانی فرقہ ورانہ شدت پسند گروہ جیش العدل نے فروری میں پانچ ایرانی سرحدی محافظوں کو ایران سے اغوا کر کے پاکستانی بلوچستان لانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ کچھ روز پہلے جیش العدل نے ایرانی سپاہی جمشید دانائی کے قتل کا دعویٰ کیا تھا۔

خیال رہے کہ وزیرِ اعظم نواز شریف نے بدھ کو ایرانی صدر حسن روحانی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ ان محافظوں کی بازیابی کے لیے پاکستان ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ ’ان محافظوں کو ایرانی صوبے سیستان بلوچستان میں اغوا کیا گیا ہے۔ اور اس معاملے کی تحقیق کے لیے مشترکہ کمشن نے، جس میں پاکستانی اور ایرانی نمائندے شامل ہیں، جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، جس کے بعد پاکستان نے اپنے علاقے کی چھان بین بھی کی تاہم ایرانی محافظوں کا نام و نشان نہ ملا۔‘

بریفنگ میں موجود ایک صحافی نے پاکستانی دفترِ خارجہ کی ترجمان سے ایرانی وزیرِ خارجہ کہ اس بیان کے بارے میں پوچھا جس میں انھوں نے حکومتِ پاکستان سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان اپنی سرحدوں کو محفوظ نہیں کرسکتا اور دہشت گردوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے دیتا ہے۔‘

تسنیم اسلم نے جواب میں کہا کہ سرحد محفوظ کرنے کی ذمہ داری دونوں طرف کے ممالک پر ہوتی ہے۔ ’ہم شدت پسندی کی مذمت کرتے ہیں اور ایرانی محافظوں کے لواحقین سے اظہارِ افسوس کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران میں یہ ایک حساس معاملہ ہے جس کے داخلی اثرات ہو سکتے ہیں۔‘

رواں ماہ فروری میں جب ٹوئٹر کے ذریعے جیش العدل نامی گروہ نے ان پانچ محافظوں کے اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی تو ایرانی شہریوں نے ٹوئٹر پر ’ایرانی محافظوں کو آزاد کرو‘ کی مہم چلائی تھی۔

سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ جیش العدل کے ’ایرانی سنی شدت پسند گروہ جند اللہ اور پاکستان میں کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے درمیان روابط ہیں۔‘

خیال رہے کہ جنداللہ ایرانی بلوچستان میں سرگرم ایک سنی گروہ ہے۔ جنداللہ کے رہنما عبدالمالک ریگی اور ان کے بھائی عبدل حامد ریگی کی گرفتاری اور پھانسی میں پاکستان نے مدد فراہم کی تھی۔

عامر رانا نے بتایا کہ جیش العدل جنداللہ سے علیحدہ ہونے والا دھڑا ہے جس نے سنی قوم پرستی سے آگے بڑھ کر خطے میں فرقہ ورانہ قوتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ روابط بھی قائم کیے ہیں۔ ’جیش العدل کی جتنی وڈیوز منظرِ عام پر آئی ہیں وہ سب بین الاقوامی شدت پسند گروہ القاعدہ کی ویب سائٹس پر آئی ہیں۔‘

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق اس گروہ نے شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جنگ لڑنے والے القاعدہ کے گرفتار جنگجوؤں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے ساتھ مسلسل کشیدگی کے باعث پاکستان ایران کے ساتھ کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔