مغوی فوجی:’پاکستان فوری اور سنجیدہ کوششیں کرے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران نے اپنے مغوی سرحدی محافظوں میں سے ایک کی ہلاکت کی خبریں سامنے آنے کے بعد پاکستان سے ان محافظوں کی بازیابی کے لیے ’فوری اور سنجیدہ‘ کوششیں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا ہے کہ انھوں نے اس سلسلے میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سے فون پر بات کی ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ بات چیت میں ایرانی فوجیوں کی فوری بازیابی کے لیے کارروائی کرنے کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔
حسن روحانی کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے انھیں یقین دلایا ہے کہ پاکستان اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کرے گا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق پاکستانی وزیراعظم سے بات چیت میں صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ ہم پاکستانی حکومت کی جانب سے فوری اور عملی اقدامات کا مظاہرہ دیکھیں گے اور ہم جلد اس معاملے میں اچھی خبر سننے کے منتظر ہیں۔‘
ارنا کے مطابق ایرانی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس قسم کے واقعات ایران میں پاکستان کے بارے میں عوامی رائے پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کی حکومتیں خطے میں دہشتگردی کے خاتمے کی لڑائی میں تعاون کریں اور ہم اس سلسلے میں پاکستانی حکومت سے کسی بھی سطح پر تعاون کے لیے تیار ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق جواب میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے ایرانی صدر کو یقین دلایا کہ ان کا ملک ایرانی فوجیوں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش اور تعاون کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف نے ایک ایرانی فوجی کی ہلاکت کی خبروں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم نے ان کی رہائی کے لیے جو ممکن تھا کیا لیکن یہ مایوس کن ہے کہ پاکستانی حکومت اپنی سرحدوں کی حفاظت میں ناکام ہوئی ہے اور اپنی سرزمین پر دہشتگردوں کو سرگرمیاں جاری رکھنے دے رہی ہے۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق تہران میں ایرانی وزارت خارجہ نے بھی پاکستانی سفیر نور محمد جدمانی کو دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے مغوی محافظوں کی رہائی کے حوالے سے پاکستانی کوششوں کی تفصیلات حاصل کیں اور مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے ذمہ داران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھی بدھ کو ایک بیان میں ایک مغوی ایرانی کے مبینہ قتل پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ تاہم دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں کہ مغوی ایرانی اہلکاروں کو پاکستانی حدود میں منتقل کیا گیا۔
اغوا کار گروہ جیش العدل نے اپنی ویب سائٹ پر اتوار کو ایک پیغام میں کہا تھا کہ مغوی ایرانی محافظین میں سے ایک جمشید دنیفار کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور اگر ایرانی حکومت سنّی قیدیوں کو رہا نہیں کرتی تو بقیہ چار مغویوں کا انجام بھی یہی ہوگا۔
ایران کے ان پانچ سرحدی محافظوں کو رواں برس فروری کے آغاز میں پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے سے اغوا کرنے کے بعد مبینہ طور پر پاکستانی علاقے میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
ان کے اغوا کی ذمہ داری ایران کے سنی شدت پسند گروپ جیش العدل نے قبول کی تھی۔ یہ گروپ ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں سرگرم ہے۔
ان محافظین کے اغوا کے بعد ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا رحمان نے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے ان کی رہائی کے لیے کچھ نہ کیا تو ایران پاکستان میں اپنے فوجی بھیج کر ان افراد کو رہا کرانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اس کے بعد فروری کے تیسرے ہفتے میں کوئٹہ میں دونوں ملکوں کے سرحدی کمیشن کے اجلاس میں مغوی محافظین کی بازیابی کے لیے ایک مشترکہ طریقۂ کار پر اتفاق کیا گیا تھا تاہم تاحال ان کی بازیابی عمل میں نہیں آ سکی ہے۔







