مغوی محافظین کی پاکستان منتقلی پر ایران کا احتجاج

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران نے اپنے پانچ مغوی سرحدی محافظین کی سرحد پار پاکستان منتقلی پر تہران میں پاکستانی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔
ان محافظین کے اغوا کا واقعہ جمعے کو ایران کے سرحدی صوبے سیستان بلوچستان میں پیش آیا تھا۔
سنّی شدت پسند گروپ جیش العدل نے ایک سرحدی حفاظتی چوکی پر مامور ان افراد کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے خبر دی تھی کہ ان افراد کو سرحد پار پاکستانی علاقے میں لے جایا گیا ہے۔
فارس نے ایرانی پولیس کے سربراہ اسماعیل احمدی مقدم کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ہم اپنے محافظین کے اغوا اور ان کی پاکستان منتقلی پر پاکستانی حکومت سے ناخوش ہیں۔‘
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق تہران میں ایرانی دفترِ خارجہ نے پاکستانی سفیر کو طلب کیا اور مطالبہ کیا کہ ’پاکستان دہشتگرد گروپ کے ان ارکان اور قائدین کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے جو بھاگ کر پاکستان چلے گئے ہیں۔‘
ادھر سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ایرانی صارفین نے ’فری ایرانیئن سولجرز‘ کے نام سے ہیش ٹیگ تخلیق کیا ہے اور مغوی فوجیوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کی رہائی کے مطالبوں پر مبنی پیغامات تحریر کیے ہیں۔
جیش العدل نے بھی ٹوئٹر اور فیس بک پر ہی ان افراد کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی تھی اور ایک تصویر بھی جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر ان مغویوں کو دکھایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ جیش العدل کا قیام 2012 میں عمل میں آیا تھا اور یہ گروپ گذشتہ برس اکتوبر میں اس وقت خبروں میں رہا تھا جب اس نے 14 چودہ ایرانی فوجیوں کو ایک کارروائی میں ہلاک کر دیا تھا۔
ان ہلاکتوں کے جواب میں ایرانی حکام نے 16 افراد کو پھانسی دی تھی جن کا تعلق سنی شدت پسند تنظیموں سے بتایا جاتا تھا۔







