یوکرین کے ٹوٹنے کا خطرہ ہے: عبوری صدر

،تصویر کا ذریعہAFP
یوکرین کے عبوری صدر اولیکساندر تورچینوف نے متنبہ کیا ہے کہ سابق صدر یانوکووچ کی برطرفی کے بعد ملک ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
یوکرین کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے عبوری صدر نے کہا کہ وہ ملک میں علیحدگی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو زیرِ بحث لانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ملاقات کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ علیحدگی پسند ملک کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
عبوری صدر نے کہا کہ اتحادی حکومت کی تشکیل میں تاخیر کی وجہ مزید مذاکرات کے لیے وقت دینا ہے۔ تورچینوف کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت کو ہر صورت میں عوام کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے۔
خیال رہے کہ یوکرین میں روسی زبان بولنے والے متعدد افراد نے یانوکووچ کی برطرفی اور ملک میں یورپ کی جانب مائل انتظامیہ لانے کی مخالفت کی تھی۔
دوسری جانب روس بھی یوکرین میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ناراض ہے، تاہم وزیرِ خارجہ سرگے لاورو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک یوکرین کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔
سرگے لاوروف نے منگل کو ماسکو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئےدوسرے ممالک یوکرین کی صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کریں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس یوکرین میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند رہے گا۔
یوکرین میں اتحادی حکومت کی تشکیل جمعرات کی رات تک منسوخ کر دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے یوکرین میں عبوری حکومت کے وزیرِداخلہ نے ملک کے برطرف صدر یانوکووچ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔
آرسین آواکوف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر لکھا: ’بڑے پیمانے پر پُرامن شہریوں کے قتل کے باعث برطرف صدر یانوکووچ اور دیگر افسران کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔‘
یوکرین میں کئی ماہ تک جاری رہنے والے عوامی احتجاج کے بعد سنیچر کو پارلیمان کے اراکین نے صدر یانوکووچ کے مواخذے کے لیے ووٹ ڈالا تھا۔
یوکرین میں حکومت مخالف مظاہرے گذشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ترجیح دی تھی۔
ان پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







