یوکرین:صدر یانوکووچ کے مواخذے کی منظوری

،تصویر کا ذریعہr
یوکرین میں صدر وکٹر یانوکووچ کے قوم سے خطاب کے بعد پارلیمان نے ان کے مواخذے کی منظوری دیتے ہوئے 25 مئی کو نئے انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل یوکرینی صدر نے کہا تھا کہ ان کا حکومت سے علیحدگی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
یوکرین کی ٹیلی وژن پر نشر کیے گئے ایک ریکارڈ شدہ انٹرویو میں انہوں نے دارالحکومت کیئف میں ہونے والے واقعات کو بغاوت قرار دیا۔
وکٹر یانوکووچ نے کہا کہ انہیں لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور وہ ’اس خونریزی‘ کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
یوکرین کے صدر کا کہنا تھا کہ وہ قانون کے مطابق منتخب صدر ہیں اور وہ نہ ہی مستعفی ہوں گے اور نہ ملک چھوڑیں گے۔
انہوں نے دارالحکومت کیئف میں رونما ہونے والے واقعات کو ’تباہی، لاقانونیت اور قبضہ‘ قرار دیا۔
انہوں نے پارلیمان میں ہونے والے رائے شماری کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔ یوکرین کی 387 میں سے ایک کے سوا تمام اراکینِ پارلیمان نے نے2004 کے آئین کی بحالی کے حق میں ووٹ دیا۔ 2004 کا یہ آئین صدارتی اختیارات میں کمی کرتا ہے۔
اس سے پہلے سنیچر کو یوکرین میں حزب مخالف نے دارالحکومت کیئف اور ملک کی پارلیمان میں اپنی بالادستی قائم کر لی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اراکینِ پارلیمان نے سپیکر اور اٹارنی جنرل اور تبدیل کر دیا ہے جبکہ حزبِ مخالف کے حامی رہنما کو وزیر داخلہ بنا دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
سنیچر کو تیزی سے رونما ہونے والے وقعات میں یوکرین کی پارلیمنٹ نے حزبِ مخالف کی رہنما یُولیا ٹیماشنکو کو رہا کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
جس کے بعد حزبِ مخالف کی رہنما یُولیا ٹیماشنکو کی وکیل کا کہنا ہے کہ پارلیمان کے ووٹ کا مطلب ہے کہ وہ اب رہا ہو جائیں گی۔
پارلیمان نے نئے سپیکر کا بھی انتخاب کیا جو نئی انتظامیہ کی قیام تک حکومتی امور چلائیں گے۔
اس سے پہلے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے مناظر میں دیکھا گیا کہ پولیس سربراہ لوگوں سے اپنے فرائض کی بجا آوری کے وعدے کر رہے ہیں۔
حزبِ مخالف کے کارکنوں نے دارالحکومت کیئف میں صدارتی دفتر کے دروازے اور شہر سے پندرہ کلو میٹر باہر صدارتی محل محل کا اختیار سنبھالا ہوا ہے۔
یوکرین کے سرکاری ٹی وی کے مطابق صدر اس وقت مشرقی شہر خرکیئف میں ہیں۔
یوکرین میں پولیس کی جانب سے صدارتی محل کا کنٹرول چھوڑے جانے کے بعد حکومت مخالف مظاہرین نے صدر کی رہائش گاہ اور دفاتر کی عمارتوں میں داخل ہوگئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مظاہرین نے صدارتی محل کے باہر اپنے پہرے دار تعینات کر دیے ہیں جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ انھیں صدر کے دفاتر میں داخل ہونے سے کسی نہیں روکا اور یہ عمارتیں بظاہر خالی معلوم ہوتی ہیں۔
صدر وکٹر یانوکووچ کے بارے میں غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ وہ دارالحکومت کیئف چھوڑ چکے ہیں اور روسی سرحد کے قریب واقع شہر خرکیئف جا چکے ہیں۔
حزب مخالف کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے صدر یانوکووچ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔ ان رہنماؤوں نے کہا کہ ملک میں انتخابات 25 مئی سے پہلے پہلے ہونے چاہییں۔
سنیچر کی صبح جب پارلیمان کا اجلاس شروع ہوا تو سپیکر والڈامیئر رئیبک نے کہا کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے اس لیے وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔
اجلاس میں حزب مخالف کی جماعت اُدر پارٹی کے رہنما نے کہا:’عوام کے مطالبات کی روشنی میں ہم رہنماؤوں کو ایک قرارداد منظور کرنی چاہیے جس میں صدر یانو کووچ سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔‘
جمعے کے روز سیاسی بحران کو ختم کرنے کے لیے صدر يانوکووچ اور اپوزیشن کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہونے کے باوجود ہزاروں افراد دارالحکومت کیئف میں سڑکوں پر جمع ہو گئے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ انھیں صدر پر اعتماد نہیں ہے۔
اس معاہدے کے تحت ملک میں ایک اتحادی حکومت بنائی جائے گی جس کی زیر نگرانی رواں برس دسمبر میں ملک میں عام انتخابات کرائے جائیں گے۔
کیئف میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار گیون ہیوٹ کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے معاہدہ پر دستخط کرنے والے رہنماؤں کو غدار قرار دیا۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو شبہ ہے کہ اِس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کرایا جائے گا۔







