یوکرین: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاہدہ

مظاہرین کا کہنا ہے کہ انھیں صدر وکٹر يانو کووچ پر اعتماد نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمظاہرین کا کہنا ہے کہ انھیں صدر وکٹر يانو کووچ پر اعتماد نہیں ہے

یوکرین میں جاری سیاسی بحران کو ختم کرنے کے لیے صدر وکٹر يانو کووچ اور اپوزیشن کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہونے کے باوجود ہزاروں افراد دارالحکومت کیئف میں سڑکوں پر جمع ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ انھیں صدر وکٹر يانو کووچ پر اعتماد نہیں ہے۔

اس سے پہلے یوکرائن کے صدر وکٹر یانو کووچ اور اپوزیشن نے جمعے کو اس معاہدے پر دستخط کیے۔

اس معاہدے کے تحت ملک میں ایک اتحاد حکومت بنائی جائے گی جس کی زیر نگرانی رواں برس دسمبر میں ملک میں عام انتخابات کرائے جائیں گے۔

یوکرین میں حکام کے مطابق امریکہ اور روس کے صدور نے اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے ٹیلی فون پر بات کی۔

ترجمان کے مطابق ولادی میر پوتن نے باراک اوباما کو بتایا کہ روس معاہدے پر عملدرآمد کا حصہ بننا چاہتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے یوکرین میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کا خیر مقدم کیا ہے۔

امریکہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر یوکرین میں تشدد جاری رہا تو وہ حکومت کے خلاف پابنددیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔

یوکرین کی حکومت اور اپوزیش کے درمیان یہ معاہدہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی ثالثی کے بعد ملک میں نومبر میں شروع ہونے والے تشدد کے بعد سب سے زیادہ خونریز دن کے بعد عمل میں آیا۔

اس سے پہلے پولیس نے جمعرات کو مظاہرین پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ کیئف کے آزادی سکوائر پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یوکرین کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں اب تک 77 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کیئف میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار گیون ہیوٹ کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے معاہدہ پر دستخط کرنے والے رہنماؤں کو غدار قرار دیا۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو شبہ ہے کہ اِس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کرایا جائے گا۔

دوسری جانب کئی مظاہرین نے دھمکی دی ہے کہ اگر صدر وکٹر یانوکووچ نے سنیچر کی صبح تک استعفیٰ نہیں دیا تو وہ صدر کے خلاف ایکشن لیں گے۔