یوکرین میں مظاہرے جاری، فوجی سربراہ برطرف

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین کے صدر وکٹر یانوکووچ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق دارالحکومت کیئف میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد صدر نے فوج کے سربراہ کرنل جنرل وولودیمر کو برطرف کردیا ہے۔
یوکرین کے صدر نے یہ فیصلہ اس وقت کیا ہے جب کیئف میں تین ماہ سے جاری بحران مزید سنگین اس وقت ہوا جب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو کیئف میں واقع میدان سے نکالنے کے لیے کارروائی کی۔
صدارتی ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ کرنل جنرل وولودیمر کی جگہ ایڈمرل یوری الین کو مسلح افواج کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ یوکرین میں پولیس نے دارالحکومت کیئف کے میدان میں مہینوں سے ’میدان‘ میں بیٹھےمظاہرین کو وہاں سے ہٹانے کے لیے ایک نئے آپریشن کا آغاز کیا ہوا ہے۔
گذشتہ رات کو شروع ہونے والے آپریشن میں کم از کم 26 لوگوں کو ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرنے والے کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس دوران سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یوکرین کے صدر یانوکووچ نے احتجاجی مظاہرین کو انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
یورپی یونین نے کہا ہے کہ احتجاجی مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال پر یوکرین کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
منگل کی شب اپوزیشن سے ناکام مذاکرات کے بعد یوکرینی صدر نے حزبِ اختلاف کے رہنماؤں سے کہا تھا کہ وہ ’خود کو سخت گیر موقف کی حامل قوتوں سے الگ کر لیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ابھی تنازعے کے خاتمے کے لیے زیادہ تاخیر نہیں ہوئی ہے۔‘
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پولیس نے منگل کی رات چار بجے آپریشن کا آغاز کیا۔ آپریشن شروع ہونے کے بعد بعض خمیوں میں آگ لگ گئی۔
یوکرین کے صدر کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے رہنماؤں نے جمہوریت کے اصولوں کو نظرانداز کر دیا ہے جن میں سے ایک اصول یہ ہے کہ طاقت کا حصول سڑکوں پر آنے سے نہیں بلکہ انتخابات سے ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پولیس کے ہزاروں اہلکاروں نے مظاہرین کے مرکز ’میدان‘ کو منگل سے گھیر رکھا ہے اور ان کی تازہ کارروائی بدھ کی صبح چار بجے شروع ہوئی۔
یوکرینی صدر نے کہا کہ حزب اختلاف نے لوگوں کو ہتھیار اٹھانے کا پیغام دے کر حد پار کر لی ہے اور تشدد کے ذمہ داران کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بحران کے خاتمے کا ’بہتر اور کارگر حل مذاکرات اور سمجھوتے کی شکل میں موجود ہے۔‘
خِیال رہے کہ یوکرین میں حکومت مخالف مظاہرے گذشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ترجیح دی تھی۔







