یوکرین: صدر کا اپوزیشن پر تشدد بھڑکانے کا الزام

جھڑپوں میں سات پولیس اہلکاروں اور ایک صحافی سمیت 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجھڑپوں میں سات پولیس اہلکاروں اور ایک صحافی سمیت 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

یوکرین کے صدر وکٹر یانوکووچ نے ملک میں حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کو دارالحکومت کیئف میں تشدد میں حالیہ اضافے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ان پرتشدد واقعات میں اب تک کم از کم 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

منگل کی شب اپوزیشن سے ناکام مذاکرات کے بعد یوکرینی صدر نے حزبِ اختلاف کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ ’خود کو سخت گیر موقف کی حامل قوتوں سے الگ کر لیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ابھی تنازعے کے خاتمے کے لیے زیادہ تاخیر نہیں ہوئی ہے۔‘

ادھر کیئف میں پولیس کی نومبر سے قائم شدہ مظاہرین کے کیمپ خالی کرانے کے لیے کارروائی جاری ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جس جگہ یہ کیمپ لگائے گیے تھے وہاں پر پولیس کی کارروائی کے آغاز پر دھماکے سنے جا رہے ہیں اور آگ لگی ہوئی ہے۔

اپوزیشن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پولیس بدترین تشدد کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

پولیس کے ہزاروں اہلکاروں نے مظاہرین کے مرکز ’میدان‘ کو منگل سے گھیر رکھا ہے اور ان کی تازہ کارروائی بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق چار بجے شروع ہوئی۔

مظاہرین کے خیمے ہٹانے کی کوششوں میں کئی خیموں میں آگ لگ گئی جبکہ پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی تیز دھار بھی استعمال کی۔

بدھ کی صبح ایک بیان میں یوکرینی صدر نے کہا کہ ’اپوزیشن کے رہنماؤں نے جمہوریت کے اصولوں کو نظرانداز کر دیا ہے جن میں سے ایک اصول یہ ہے کہ طاقت کا حصول سڑکوں پر آنے سے نہیں بلکہ انتخابات سے ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے لوگوں کو ہتھیار اٹھانے کا پیغام دے کر حد پار کر لی ہے اور تشدد کے ذمہ داران کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بحران کے خاتمے کا ’بہتر اور کارگر حل مذاکرات اور سمجھوتے کی شکل میں موجود ہے۔‘

تنازعے کے خاتمے کے لیے زیادہ تاخیر نہیں ہوئی ہے: وکٹر یانوکووچ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتنازعے کے خاتمے کے لیے زیادہ تاخیر نہیں ہوئی ہے: وکٹر یانوکووچ

سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو کیمپ خالی کرنے کے لیے منگل کی شام تک کی مہلت دی تھی اور اس مہلت کے خاتمے کے بعد بکتربند گاڑیوں میں سوار پولیس علاقے میں داخل ہوئی اور مظاہرین کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹیں توڑنے اور لوگوں کو منتشر کرنے کا عمل شروع کر دیا۔

جواب میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے۔ رات بھر یہ جھڑپیں جاری رہیں اور مظاہرین کے رہنما ان سے استقامت کا مظاہرہ کرنے اور دیگر افراد سے کیمپ کا رخ کرنے کی اپیل کرتے رہے۔

اب تک ان جھڑپوں میں سات پولیس اہلکاروں اور ایک صحافی سمیت 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ جھڑپوں میں سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

خِیال رہے کہ یوکرین میں حکومت مخالف مظاہرے گذشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ترجیح دی تھے۔

روس نے یوکرائن کو گذشتہ سال 15 ارب امریکی ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اس نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اس مدد کی دوسری قسط اس وقت نہیں دے گا جب تک نئی حکومت نہیں بن جاتی کیونکہ گذشتہ ہفتے وزیرِاعظم اور ان کی کابینہ مستعفی ہوگئی تھی۔