یوکرین میں پرتشدد احتجاج

کیئف میں مظاہرین کےخلاف پولیس کارروائی میں درجنوں ہلاک

یوکرین کی پولیس نے کئی ماہ سے کیئف کے ’میدان‘ میں بیٹھے ہوئے مظاہرین کو وہاں سے ہٹانے کےلیے آپریشن شروع کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیوکرین کی پولیس نے کئی ماہ سے کیئف کے ’میدان‘ میں بیٹھے ہوئے مظاہرین کو وہاں سے ہٹانے کےلیے آپریشن شروع کیا ہے۔
منگل کے روز ہونے والی جھڑپوں میں25 لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ صدر یانوکووچ نے حزب اختلاف کو انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمنگل کے روز ہونے والی جھڑپوں میں25 لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ صدر یانوکووچ نے حزب اختلاف کو انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
صدر یانوکووچ نےگذشتہ رات مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد مظاہرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ’انتہا پسندوں‘ سے دور کریں۔
،تصویر کا کیپشنصدر یانوکووچ نےگذشتہ رات مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد مظاہرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ’انتہا پسندوں‘ سے دور کریں۔
 سیاسی کارکنوں کا الزام ہے کہ حکومت تشدد کو ہوا دے رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشن سیاسی کارکنوں کا الزام ہے کہ حکومت تشدد کو ہوا دے رہی ہے۔
پولیس دسمبر 2013 میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد پہلی بار میدان کے ایک حصے کو خالی کرانے میں کامیاب ہوئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپولیس دسمبر 2013 میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد پہلی بار میدان کے ایک حصے کو خالی کرانے میں کامیاب ہوئی ہے۔
پولیس نے میدان کو خالی کرانے کے لیے صبح چار بجے کارروائی شروع کی۔ کارروائی کے دوران کئی خیمے جلتے ہوئے نظر آئے جبکہ پانی کی توپیں بھی استعمال میں لائی گئیں۔
،تصویر کا کیپشنپولیس نے میدان کو خالی کرانے کے لیے صبح چار بجے کارروائی شروع کی۔ کارروائی کے دوران کئی خیمے جلتے ہوئے نظر آئے جبکہ پانی کی توپیں بھی استعمال میں لائی گئیں۔
یوکرین کی وزارتِ صحت کے مطابق کل 25 لوگ ہلاک ہوئے ہیں جن میں نو پولیس اہلکار اور ایک صحافی بھی شامل ہے۔
،تصویر کا کیپشنیوکرین کی وزارتِ صحت کے مطابق کل 25 لوگ ہلاک ہوئے ہیں جن میں نو پولیس اہلکار اور ایک صحافی بھی شامل ہے۔
احتجاج میں سینکڑوں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشناحتجاج میں سینکڑوں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
یوکرین میں احتجاج نومبر 2013 میں اس وقت شروع ہوا جب صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کی بجائے روس کے اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیوکرین میں احتجاج نومبر 2013 میں اس وقت شروع ہوا جب صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کی بجائے روس کے اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
منگل کے روز پارلیمنٹ کے باہر اس وقت جھڑپیں شروع ہو گئیں جب حکومت کے حامیوں نے اپوزیشن کی جانب سے صدارتی اختیارات کی واپسی کا مطالبہ کیا۔
،تصویر کا کیپشنمنگل کے روز پارلیمنٹ کے باہر اس وقت جھڑپیں شروع ہو گئیں جب حکومت کے حامیوں نے اپوزیشن کی جانب سے صدارتی اختیارات کی واپسی کا مطالبہ کیا۔