،تصویر کا کیپشنیوکرین کے صدر کے اس بیان کے باوجود کہ حزب مخالف کے ساتھ ان کا معاہدے ہو گیا ہے، سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ (بعض قارئین کے لیے تشدد کی یہ تصاویر تکلیف دہ ہو سکتی ہیں)
،تصویر کا کیپشندارالحکومت کیئف کے آزادی چوک میں جمعرات کو سینکڑوں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ایک مرتبہ پھر شروع ہو گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآزادی چوک میں پولیس کو پیچھے دھکیلنے کے بعد مظاہرین نے پھر سے رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دی ہیں۔ منگل کو ہی سکیورٹی فورسز نے ’تشدد مخالف آپریشن‘ میں یہاں سے مظاہرین کو ہٹایا تھا۔
،تصویر کا کیپشنآزادی چوک میں جمع مظاہرین میں سے کچھ نے وہاں پٹرول بم بھی بنانا شروع کر دیے۔ صدرِ مملکت کی سرکاری ویب سائٹ پر پرتشدد ہنگامے دوبارہ شروع کرنے کا الزام حزبِ مخالف پر لگایا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے یہ دکھانے کے لیے کہ سکیورٹی فوسز نے اسلحہ استعمال کیا، ہنگاموں کی جگہ سے گولیوں کے خول بھی جمع کیے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہلاک ہونے والے 21 افراد میں سے بعض کے جسم پر گولی کا صرف ایک زخم تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرنے والوں کو باقاعدہ نشانہ بنایا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنہنگاموں میں اب تک سینکڑوں افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ اس تصویر میں طبی امداد دینے والے رضاکار ایک زخمی کو آزادی چوک سے اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنرضاکار کیئف کے ’یوکرین ہوٹل‘ کے استقبالیے کو زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے میڈیا کے لوگ بھی اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور انھوں نے تصدیق کی ہے کہ ہوٹل کی کھڑکیوں پر بھی گولیاں لگی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین میں بھی کچھ لوگ مسلح تھے اور انھوں نے ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے مہمانوں سے بستر کی چادریں اور کمبل لے کر انھیں پٹّیوں کے طور پر استعمال کیا۔
،تصویر کا کیپشنجمعرات کو ہی صدر یانوکووچ فرانس، جرمنی اور پولینڈ کے صدور سے ملاقات کر رہے تھے۔ سیکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے اس ملاقات کے مقام کو بھی تبدیل کرنا پڑا۔
،تصویر کا کیپشنہنگاموں پر قابو پانے والی خصوصی پولیس کو پارلیمنٹ کی عمارت کی حفاظت پر مامور کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں پارلیمنٹ پر تعینات افراد میں سے 20 زخمی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآزادی چوک میں زیادہ سے زیادہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے مظاہرین ایک دوسرے کو اینٹیں مہیا کر رہے تھے۔ اس دوران یورپیئن یونین کے وزرائے خارجہ ’تشدد اورضرورت سے زیادہ طاقت‘ استعمال کرنے والے حکام پر پابندیاں لگانے پر متفق ہوگئے۔ ان پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا اور ویزے پر پابندی شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیوکرین میں ہنگاموں کا آغاز نومبر میں اس وقت ہوا تھا جب صدر یانو کووچ نے یورپیئن یونین کے ساتھ زیادہ تعلقات اور تجارت کی تجویز کو رد کرتے ہوئے روس ساتھ قریبی تعلقات کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت سے ہنگامے پورے یوکرین میں پھیل چکے ہیں۔