شامی حزبِ اختلاف جنیوا میں امن مذاکرات میں شرکت کرے گی

شام میں تین برس سے جاری خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہ1

،تصویر کا کیپشنشام میں تین برس سے جاری خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

شام کی مرکزی سیاسی حزبِ اختلاف ’شامی قومی اتحاد‘ نے اگلے ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے ووٹنگ کے ذریعے رضامندی ظاہر کی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’جرات مندانہ‘ قرار دیا ہے۔

جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات کو ’جنیوا ٹو‘ کا نام دیا گیا ہے، اور ان میں شام میں جاری خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے ایک عبوری حکومت قائم کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

تین سال سے جاری اس تنازعے میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں، جب کہ ایک تخمینے کے مطابق 20 لاکھ شامی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں جب کہ 65 لاکھ سے زائد ملک کے اندر بےگھر ہو گئے ہیں۔

رائے شماری میں حصہ لینے والے مندوبین نے 14 کے مقابلے میں 58 ووٹوں کی اکثریت سے مذاکرات میں حصہ لینے کے حق میں ووٹ دیا، جب کہ ایک مندوب نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

اتحاد کے سربراہ احمد جربا نے کہا کہ اتحاد ’انقلاب کے اصولوں پر کوئی سودے بازی کیے بغیر مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے، اور وہ شامی صدر (بشار الاسد) کی حکومت سے دھوکہ نہیں کھائے گا۔‘

انھوں نے کہا: ’ہمارے لیے مذاکرات کی میز انقلاب کا مطالبہ پورا کرنے کا راستہ ہے۔ اس میں سرِفہرست قصائی کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔‘

جان کیری نے ایک بیان میں کہا: ’یہ ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے اور یہ تمام شامیوں کے مفاد میں ہے جو حکومت اور ایک نامختتم جنگ کے وحشیانہ پن کا شکار ہیں۔‘

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کہتے ہیں کہ مغربی طاقتوں کو اس ووٹنگ سے اطمینان ہوا ہو گا، تاہم اس میں وہ اتفاقِ رائے سامنے نہیں آ سکا جس کی مذاکرات کے حامیوں کو امید تھی۔

شامی حزبِ اختلاف نے اس سے قبل اس وقت تک سوئٹزرلینڈ جانے سے انکار کر دیا تھا جب کہ شامی صدر بشارالاسد کو آئندہ بننے والی کسی عبوری حکومت میں حصہ نہ لینے دیا جائے۔

تاہم شامی حکومت کا کہنا ہے اس پر کسی قسم کی پیشگی شرائط عائد نہیں کی جا سکتیں۔

گذشتہ ہفتے شامی قومی مفاہمت کے وزیر علی حیدر نے کہا تھا کہ ان مذاکرات سے کسی کو بہت بڑی پیش رفت کی توقع نہیں ہونی چاہیے: ’حل کی جانب سفر شروع ہو گیا ہے، اور یہ ریاست کی فوجی فتح کے ساتھ ساتھ جاری رہے گا۔‘

تاہم شام نے جمعے کو حزبِ اختلاف کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی پیش کش کی تھی، اور وزیرِ خارجہ ولید معلم نے کہا تھا کہ انھوں نے اپنے روسی ہم منصب سرگے لاوروف کے ساتھ ملاقات میں حلب میں بھی جنگ بندی کے معاہدے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔

اس کے علاوہ شامی حکومت نے خیرسگالی کے اظہار کے طور پر دمشق میں واقع یرموک فلسطینی مہاجر کیمپ تک کئی ماہ کے بعد امداد پہنچانے کی اجازت دی تھی۔