امریکہ اور برطانیہ کی شامی اپوزیشن کو تنبیہ

شام میں ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر شام میں اپوزیشن کا مرکزی گروپ آئندہ ہفتے امن مذاکرات میں شرکت نہیں کرتا تو وہ اس کی حمایت کے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں گے۔
شامی قومی اتحاد کے اس عہدیدار کے مطابق ان دونوں ممالک کا پرزور اصرار ہے کہ اتحاد جنیوا میں ہونے والی بات چیت میں شریک ہو۔
اتحاد اس بات چیت میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں جمعہ کو فیصلہ کرے گا۔
شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف تحریک کے آغاز کے تین برس بعد بھی شامی اپوزیشن منقسم ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ جنیوا دوم نامی یہ مذاکرات ملک میں جاری خونریز خانہ جنگی کے خاتمے میں کلیدی کردار کر سکتے ہیں۔
سفارتی امور کے لیے بی بی سی کی نامہ نگار بریجٹ کینڈل کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر برطانوی حکومت اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ وہ شامی قومی کونسل کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
تاہم ان کے مطابق یہ واضح ہو چکا ہے کہ حزبِ اختلاف کو صدر الاسد کی حکومت کے سامنے بٹھانا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
شامی قومی کونسل کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’امریکہ اور برطانیہ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ آپ کو جنیوا جانے کی ضرورت ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عہدیدار کے مطابق ’وہ یہ واضح کر رہے ہیں کہ اگر ہم نہیں جاتے تو وہ ہماری اس طرح سے حمایت جاری نہیں رکھیں گے جیسے کہ اب ہے اور یہ کہ عالمی برادری میں ہماری ساکھ متاثر ہوگی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ دیگر ممالک ان پر ایسا دباؤ نہیں ڈال رہے اور فرانس، سعودی عرب اور ترکی اگرچہ چاہتے ہیں کہ وہ بات چیت میں شریک ہوں لیکن وہ اس سلسلے میں کونسل کے فیصلے کو تسلیم کریں گے چاہے وہ جو بھی ہو۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کی سیاسی حمایت اپوزیشن کے لیے ضروری ہے اور اس کی غیرموجودگی سے فرق پڑے گا تاہم انھوں نے اس تنبیہ کے حقیقی ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ اعتدال پسند اپوزیشن کی غیر موجودگی میں باقی آپشن یا تو صدر الاسد کی حکومت ہے یا پھر شدت پسند:’متبادل کیا ہے۔ ایک طرف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والا ظالم آمر ہے تو دوسری طرف القاعدہ۔ سو وہ اگر ہم سے معاہدہ نہیں کریں گے تو پھر کس سے معاہدہ کریں گے؟‘

ادھر شام کے معاملے پر روس اور امریکہ کے وزارئے خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے ایلچی الاخضر براہیمی سے بھی ملاقات کی ہے۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروو اور ان کے امریکی ہم منصب جان کیری نے امن بات چیت سے قبل شام میں ’مقامی سطح پر فائر بندی‘ کے امکانات پر بات کی۔
ان دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ شام میں قیدیوں کا تبادلہ بھی بات چیت میں زیرِ غور آیا۔
خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں مارچ 2011 سے شروع ہونے والی حکومت مخالف مہم کے دوران اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔







